ترنمول کے نام اور انتخابی نشان پر پابندی کو چیلنج کرنے سپریم کورٹ پہنچیں ممتا بنرجی
نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے انتخابی کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت ترنمول کانگریس کے دو مخالف دھڑوں کے درمیان تنازعہ کے پیش نظر پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کو
SC-TMC-Symbol-Name-Mamata-Banerjee-challenge-ECI


نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے انتخابی کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت ترنمول کانگریس کے دو مخالف دھڑوں کے درمیان تنازعہ کے پیش نظر پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کو فریز کر دیا گیا تھا۔

انتخابی کمیشن نے 18 ستمبر کو دونوں مخالف دھڑوں کے لیے الگ الگ نام اور انتخابی نشان مختص کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل، 17 ستمبر کو کمیشن نے تنازعہ پر حتمی فیصلہ ہونے تک دونوں گروپوں کو ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور اس کے محفوظ انتخابی نشان کے استعمال سے روک دیا تھا۔

اپنے عبوری حکم میں الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی اور ارُوپ رائے کی قیادت والے دونوں دھڑوں کے رہنماو¿ں کا موقف سننے کے بعد کہا تھا کہ انتخابی نشان کے تحفظ اور الاٹمنٹ سے متعلق ضوابط کے تحت کمیشن کو اس معاملے میں ٹھوس فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنی عرضی میں الیکشن کمیشن اور مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رتبرت بنرجی کو فریق بنایا ہے۔جون میں 58 باغی ارکان اسمبلی نے ممتا دھڑے کے امیدوار شوبھن دیو چٹرجی کی جگہ پارٹی سے نکالے گئے رہنما رتبرت بنرجی کو مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر منتخب کر لیا تھا اور اسپیکر سے اس کی منظوری بھی حاصل کر لی۔ پارٹی کی 28 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب اس میں پھوٹ پڑی۔

چند ہی دن بعد بغاوت پارلیمنٹ تک بھی پہنچ گئی۔ کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں لوک سبھا کے 20 ارکان نے نسبتاً کم معروف این سی پی آئی میں شمولیت اختیار کر لی اور اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی ایک الگ دھڑے کے طور پر حمایت کا اعلان کیا، جس سے پارٹی کے پارلیمانی دھڑے میں اختلافات مزید گہرے ہوگئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande