
حیدرآباد،19 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے نائب وزیراعلیٰ ملوبھٹی وکرامارکا کی پیش کردہ قراردادوں کومتفقہ طورپر منظورکرلیا۔ان قراردادوں میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ریاست میں بارش کی شدید کمی کے بعد امدادی سرگرمیوں کے لیے فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کوچاہیے کہ وہ‘ایل نینو’ کے حالات کا زمینی سطح پر جائزہ لینے کے لیے جلد ازجلد ایک نمائندہ وفد تلنگانہ کوبھیجے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل ڈیزاسٹرریسپانس فنڈ سے مناسب امداد کی منظوری دی جانی چاہیے اوراسٹیٹ ڈیزاسٹرریسپانس فنڈ میں مرکزکا حصہ فوری طورپرجاری کیاجاناچاہیے۔
اسی طرح، بھٹی نے کہا کہ فصلوں کے نقصان یا زرعی مداخل کے لیے امداد، پینے کے پانی، چارے، مویشیوں کے تحفظ، زیرِ زمین پانی کی سطح کی بحالی، تالابوں اور دیگر آبی وسائل کی بحالی کے ساتھ ساتھ دیگر امدادی اقدامات کے لیے بھی مدد فراہم کی جانی چاہیے۔ حکومت نے درخواست کی کہ جہاں بھی ضروری ہو، ایسی امداد کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے متعلقہ رہنما خطوط میں نرمی کی جائے۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہاکہ ‘وی بی-جی رام جی’اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے 125 دن کے روزگارکے علاوہ مزید 50 دن کاروزگار فراہم کیاجانا چاہیے۔‘وی بی-جی رام جی’ کے تحت ہونے والا تمام خرچ مرکزی حکومت کو برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں روزگارکی موجودہ 60روزہ موسمی معطلی کی مدت میں نرمی کی جانی چاہیے اوردیہی گھرانوں کے لیے روزگارکے تحفظ کویقینی بنانے کی خاطرلیبربجٹ میں اضافہ کیاجانا چاہیے۔ اسمبلی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مرکز کو پینے کے پانی، آبپاشی اور قحط سے نمٹنے کے لیے 20,000 کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج دیناچاہیے۔ مرکزی اسکیموں کے تحت مزید فنڈنگ سے مقامی آبی ذخائر کی بحالی، وسائل کے تحفظ اور جاری آبپاشی کے منصوبوں کی رفتار بڑھانے میں بھی مدد ملنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق