
اے ایم یو طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے میں طلبہ نے پروکٹر آفس میں پیش کیا میمورنڈم، 48 گھنٹے میں جواب کا مطالبہ
علی گڑھ 19 ستمبر (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کرائے جانے کے مطالبے کو لے کر طلبہ کے ایک وفد نے پروکٹر آفس پہنچ کر یونیورسٹی انتظامیہ کو مطالباتی میمورنڈم پیش کیا۔ وفد کی قیادت طلبہ رہنما یاسر فہد نے کی۔ طلبہ نے انتظامیہ سے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے واضح اور مقررہ مدت کے اندر انتخابی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میمورنڈم میں طلبہ نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کا آخری باقاعدہ انتخاب 2018-19 میں ہوا تھا، جس کے بعد سے اب تک نئے منتخب طلبہ یونین کا قیام عمل میں نہیں آسکا ہے۔ طلبہ کے مطابق طویل عرصے سے منتخب طلبہ نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کے مسائل اور مطالبات کو ادارہ جاتی سطح پر مؤثر طریقے سے پیش کرنے کا نظام متاثر ہوا ہے۔
طلبہ نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے فوری طور پر ایک واضح، شفاف اور مقررہ مدت پر مشتمل انتخابی خاکہ جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں انتخابی اتھارٹی کی تشکیل، ووٹر لسٹ کی تیاری، انتخابی شیڈول کا اعلان، نامزدگی، کاغذات کی جانچ پڑتال، پولنگ، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان سمیت تمام مراحل کو واضح طور پر شامل کیا جائے۔
میمورنڈم میں طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے 48 گھنٹوں کے اندر تحریری اور واضح جواب دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں طلبہ یونین کے انتخابات کے حوالے سے انتظامیہ کے موقف اور آئندہ کے لائحۂ عمل سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔
میمورنڈم کے مطابق طلبہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر کوئی اطمینان بخش اور ٹھوس جواب موصول نہیں ہوتا تو وہ پرامن اور جمہوری طریقے سے اپنے مطالبے کو آگے بڑھائیں گے۔ اس سلسلے میں طلبہ نے آئندہ کے اقدامات میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا بھی ذکر کیا ہے۔
طلبہ رہنما یاسر فہد اور وفد کے دیگر ارکان کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ صرف انتخابات کرانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق طلبہ کی نمائندگی، فیصلہ سازی میں شرکت، جواب دہی اور یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ جمہوری مکالمے سے بھی ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک منتخب طلبہ یونین طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے، جس کے ذریعے طلبہ اپنے مسائل اور تعلیمی و انتظامی امور سے متعلق تجاویز باقاعدہ طور پر پیش کر سکیں گے۔
میمورنڈم پیش کیے جانے کے بعد اب طلبہ کی نظریں یونیورسٹی انتظامیہ کے جواب پر ہیں۔ طلبہ نے واضح کیا ہے کہ وہ انتظامیہ کے تحریری جواب اور طلبہ یونین کے انتخابات کے حوالے سے مجوزہ انتخابی خاکے کے منتظر ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ