
میدنی پور، 19 ستمبر (ہ س)۔ مغربی میدنی پور ضلع کے گڑبیتا میں جمعہ کی دیر شام تک جاری رہنے والے بی جے پی اور سی پی ایم کارکنان کے درمیان تصادم کے بعد علاقے میں کشیدگی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ واقعے کے بعد دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں۔ دونوں فریقین کے دعووں کے مطابق کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سی پی ایم کا الزام ہے کہ بی جے پی کے لوگ ان کے پارٹی دفتر پر قبضہ کرنے کی غرض سے وہاں بھگوا (زعفرانی) رنگ کرنے پہنچے تھے۔ مقامی لوگوں نے اس کی مخالفت کی، جس کے بعد تنازعہ شروع ہوا۔ وہیں، بی جے پی کا الزام ہے کہ ان کے کارکنان وہاں چائے پیتے ہوئے باہم گفتگو کر رہے تھے۔ تنظیم کے بڑھتے اثر و رسوخ کو دیکھ کر سی پی ایم کے لوگوں نے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔
کسی زمانے میں گڑبیتا میں سی پی ایم کا دبدبہ کافی مضبوط تھا۔ اس علاقے میں تپن گھوش اور شکور علی کے نام نمایاں طور پر لیے جاتے تھے۔ مقامی سطح پر یہ کہاوت بھی عام تھی کہ ’شکور اور تپن کی مرضی کے بغیر علاقے میں درخت کا پتہ بھی نہیں ہلتا۔‘ اس کے بعد سیاسی حالات تبدیل ہوئے۔ ریاست میں 15 برسوں تک ترنمول کانگریس برسرِ اقتدار رہی اور اب بی جے پی برسراقتدار ہے۔ سی پی ایم کے ذرائع کے مطابق، ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سی پی ایم علاقے میں اپنی تنظیم کو ازسرِ نو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
الزام ہے کہ جمعہ کی شام کھڑکھشما گاوں سے تنازعہ کا آغاز ہوا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ کھڑکھشما منڈل کے جنرل سکریٹری پون سامنت چند افراد کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، عین اسی وقت سی پی ایم کے لوگ وہاں پہنچے اور ان پر حملہ آور ہو گئے۔ اس کے برعکس سی پی ایم کا الزام ہے کہ بی جے پی کے لوگ ان کے پارٹی دفتر پر زعفرانی رنگ کرنے پہنچے تھے اور وہیں سے بدامنی کا آغاز ہوا۔
سی پی ایم کا الزام ہے کہ کھڑکھشما سے واپسی کے بعد بی جے پی کے لوگوں نے گڑبیتا قصبے میں واقع سی پی ایم کے زونل پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں آگ لگا دی۔ تپن گھوش کے پیٹرول پمپ پر بھی توڑ پھوڑ کی کوشش کا الزام ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی گڑبیتا تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔
مغربی میدنی پور کے سی پی ایم ضلع سکریٹری وجے پال نے الزام لگایا کہ بی جے پی گاوں میں تنظیمی محاذ پر سی پی ایم کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہنے کے باعث پولیس کی مدد سے پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ کر کے آگ لگا رہی ہے۔ انہوں نے پیٹرول پمپ پر توڑ پھوڑ اور نذرِ آتش کرنے کی کوشش کا بھی الزام عائد کیا۔
دوسری جانب، گڑبیتا کے بی جے پی رکنِ اسمبلی پردیپ لودھا نے الزام لگایا کہ سی پی ایم کے لوگوں نے بلاوجہ ان کے کارکنوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ ان کے مطابق بی جے پی کے کم از کم 25 کارکنان شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگوں نے کچھ نہیں کیا اور جو کچھ بھی ہوا وہ عوامی غم و غصہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی گڑبیتا میں کسی بھی قسم کی بدامنی نہیں چاہتی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن