گروگرام کے مال میں 18 اسپا سینٹرز پر پولیس اور خواتین کمیشن کی چھاپے ماری
گروگرام، 19 ستمبر (ہ س)۔ مشکوک غیر قانونی سرگرمیوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے گروگرام پولیس اور ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے جمعہ کی دیر رات شہر کے سیکٹر-90 میں واقع سفائر 90 مال میں چل رہے 18 اسپا سینٹرز پر مشترکہ چھاپے ماری کی۔ یہ چھاپے ماری رات 1
گروگرام کے سفائر مال 90 میں چھاپے ماری کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے اے سی پی ابھی لکش لیکھی۔


گروگرام کے سفائر مال 90 میں چھاپے ماری کے دوران ایک اسپا سینٹر کا تالا کٹواتی ہوئیں ہریانہ خواتین کمیشن کی چیئر پرسن اوشا پریہ درشی۔


گروگرام کے سفائر 90 مال میں اسپا سینٹرز پر چھاپے ماری کے دوران پکڑے گئے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں۔


گروگرام، 19 ستمبر (ہ س)۔ مشکوک غیر قانونی سرگرمیوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے گروگرام پولیس اور ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے جمعہ کی دیر رات شہر کے سیکٹر-90 میں واقع سفائر 90 مال میں چل رہے 18 اسپا سینٹرز پر مشترکہ چھاپے ماری کی۔ یہ چھاپے ماری رات 10 بجے سے صبح تین بجے تک تقریباً چھ گھنٹے جاری رہی۔

موقع پر ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن اوشا پریہ درشی اپنی ٹیم کے ہمراہ اور ڈیوٹی مجسٹریٹ بھی موجود رہے۔ تقریباً 100 پولیس اہلکاروں پر مشتمل اس بڑے آپریشن کو اے سی پی ہیڈکوارٹر-1 ابھی لکش جوشی کی زیر نگرانی مکمل کیا گیا۔ وہ غیر اخلاقی اسمگلنگ (انسداد) ایکٹ 1956 کے تحت مقرر کردہ خصوصی پولیس افسر بھی ہیں۔ ٹیم میں تقریباً 20 انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز بھی شامل تھے۔

بیک وقت کی گئی چھاپے ماری کے دوران 18 میں سے آٹھ اسپا سینٹرز میں مشکوک غیر قانونی سرگرمیوں کے ابتدائی شواہد ملے ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے اہم الیکٹرانک، ڈیجیٹل، مادی اور دستاویزی ثبوت ضبط کر لیے ہیں۔ ان شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ اسپا سینٹرز کے مالکان، منتظمین، مینیجرز اور معاونین کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔

چھاپے ماری کے دوران موقع پر تقریباً 30 خواتین اور 20 مرد موجود ملے۔ پولیس خواتین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ ان کے حالات کا علم ہو سکے اور اس نوعیت کی سرگرمیوں میں معاونت کرنے والے ممکنہ افراد کی شناخت کی جا سکے۔ وہیں وہاں موجود مردوں کے کردار کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے اور شواہد کی بنیاد پر مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ابتدائی جانچ اور کارروائی اے سی پی ہیڈکوارٹر-1 خصوصی پولیس افسر کے ذریعے کی گئی ہے، جبکہ آئندہ کی تفصیلی تحقیقات تھانہ کھیڑکی دولہ کے انچارج کے سپرد کی جائیں گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande