ملازمین پروویڈنٹ فنڈ کے لیے تنخواہ کی حد بڑھائے جانے کا بھارتیہ مزدور سنگھ نے خیر مقدم کیا
کولکاتا، 19 ستمبر (ہ س)۔ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے تحت لازمی رکنیت کے لیے تنخواہ کی حد 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا بھارتیہ مزدور سنگھ نے خیر مقدم کیا ہے۔ بھارتیہ مزدور سنگھ کے رہنم
بی ایم ایس رہنما مہندر گپتا کی فائل فوٹو


کولکاتا، 19 ستمبر (ہ س)۔ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے تحت لازمی رکنیت کے لیے تنخواہ کی حد 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا بھارتیہ مزدور سنگھ نے خیر مقدم کیا ہے۔

بھارتیہ مزدور سنگھ کے رہنما اور کھدان شرمک کانگریس کے جنرل سکریٹری مہندر گپتا نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین پروویڈنٹ فنڈ کی تنخواہ کی حد میں اضافے کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے تنخواہ کی حد 15 ہزار روپے پر ہی برقرار تھی۔ بھارتیہ مزدور سنگھ کی جانب سے اس حد میں اضافے کے مطالبے کو لے کر مسلسل حکومت کے سامنے میمورنڈم، مذاکرات، تنظیمی پروگراموں، مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔

ہفتہ کے روز کولکاتا میں منعقدہ ایک پروگرام میں مہندر گپتا نے کہا کہ 25 مارچ 2026 کو منعقد کیے گئے دھرنے کے پروگرام اور اس کے بعد 17 اگست 2026 کو ملک گیر احتجاج کے دوران ملازمین پروویڈنٹ فنڈ کی تنخواہ کی حد بڑھانے سمیت مزدوروں سے متعلق کئی زیرِ التوا مسائل کو نمایاں طور پر اٹھایا گیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے متعلقہ حکام اور مرکزی وزیر برائے محنت و روزگار ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ کے ساتھ ہوئی میٹنگوں میں بھی ملازمین پروویڈنٹ فنڈ، ملازمین ریاستی بیمہ (ای ایس آئی) اور مزدوروں کی سماجی تحفظ سے وابستہ امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ کی حد 15 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کیے جانے سے 15 ہزار تا 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پانے والے ملازمین کے ایک بڑے طبقے کو لازمی سماجی تحفظ کے دائرے میں آنے کا موقع ملے گا۔ اس سے پروویڈنٹ فنڈ بچت، امپلائز پنشن اسکیم اور امپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم جیسی سماجی تحفظ کی سہولیات کا فائدہ زیادہ مزدوروں تک پہنچ سکے گا۔

مہندر گپتا نے کہا ہے کہ تنظیم کا مطالبہ محض ملازمین پروویڈنٹ فنڈ کی تنخواہ کی حد بڑھانے تک ہی محدود نہیں ہے۔ ہمہ گیر سماجی تحفظ، ملازمین پروویڈنٹ فنڈ اور ملازمین ریاستی بیمہ کے دائرہ کار میں توسیع، مستحکم پنشن کا تحفظ، کم سے کم پنشن میں اضافہ نیز غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو موثر سماجی تحفظ کے دائرے میں لانا تنظیم کے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔

تنظیم نے کم از کم اجرت، بونس، مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ، اسکیم ورکرز کے مشاہرے اور لیبر قوانین سے وابستہ زیرِ التوا معاملات پر بھی حکومت سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتیہ مزدور سنگھ کے مطابق، مزدوروں کے سماجی اور اقتصادی مفادات سے متعلق امور کو لے کر حکومت کے ساتھ بات چیت اور کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے بعد 51 لاکھ سے زائد اضافی ملازمین، امپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کی لازمی کوریج کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ تنخواہ کی نئی حد 19 ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande