
جموں, 19 ستمبر (ہ س): جموں ضلع میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر مقیم روہنگیا افراد کے خلاف ضلع انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی تیز کر دی ہے۔ انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں قائم بستیوں کو خالی کرانے کے ساتھ ساتھ تمام پولیس تھانوں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔اطلاعات کے مطابق نروال سمیت مختلف علاقوں میں روہنگیا افراد دن کے وقت اپنا سامان سمیٹنے کے بعد رات کے وقت بستیاں خالی کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کئی خاندان ضروری سامان اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں جبکہ بڑے گھریلو سامان کو مقامی سطح پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان کے اگلے ٹھکانے کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
انتظامیہ نے پولیس تھانوں کو ہدایت دی ہے کہ جموں کے کسی دوسرے علاقے میں ان کے دوبارہ قیام کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے۔
انتظامیہ کے مطابق نروال، بٹھنڈی، سنجواں اور چواڑی میں اب تک 40 کنال سے زائد اراضی خالی کرائی گئی ہے اور 7 ہزار سے زیادہ روہنگیا افراد کو وہاں سے منتقل کیا گیا ہے۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ضلع میں کہیں بھی ان افراد کو دوبارہ بسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں جگہ یا رہائش فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کارروائی کے بعد سانبہ ضلع انتظامیہ کو بھی چوکس کیا گیا ہے اور مختلف سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ادھر باہو حلقے کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے جمعہ کو نروال اور ملحقہ علاقوں میں قائم بستیوں کا دورہ کیا۔ اس دوران بعض روہنگیا افراد نے اپنے شناختی کارڈ دکھاتے ہوئے رحم کی اپیل کی۔ رندھاوا نے ان سے ان کے آئندہ ٹھکانے کے بارے میں دریافت کیا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح معلومات نہیں دیں۔رندھاوا نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ ان افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے تاکہ وہ جموں کے دیگر علاقوں میں منتشر ہو کر خفیہ طور پر سکونت اختیار نہ کر سکیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر