ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان فریز، ممتا اور رتبرت گروپ نے متبادل نام انتخابی کمیشن کو سونپے
کولکاتا، 18 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کی دو اسمبلی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے عین قبل بھارت کے الیکشن کمیشن نے ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کے نام اور اس کے مختص انتخابی نشان ’جوڑا پھول‘ کے استعمال پر عبوری روک لگا کر اسے فریز کر دیا ہے۔ اس ف
Wb-tmc-symbols-fightec


کولکاتا، 18 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کی دو اسمبلی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے عین قبل بھارت کے الیکشن کمیشن نے ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کے نام اور اس کے مختص انتخابی نشان ’جوڑا پھول‘ کے استعمال پر عبوری روک لگا کر اسے فریز کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد 6 اکتوبر کو نندی گرام اور ریجی نگر نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ممتا بنرجی کی قیادت والے ’کالی گھاٹ-ترنمول‘ اور باغی ’رتبرت-ترنمول‘ میں سے کوئی بھی گروپ پارٹی کے اصل نام اور انتخابی نشان کا استعمال نہیں کر سکے گا۔ کمیشن نے دونوں گروپوں کو جمعہ کی صبح 11 بجے تک اپنی پسند کے تین متبادل نام اور انتخابی نشانوں کی فہرست جمع کرانے کی ہدایت دی تھی، جسے دونوں جانب سے جمع کرائے جانے کی اطلاع ہے۔

ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی کی قیادت والے کالی گھاٹ گروپ نے جمعرات کی دیر رات ای میل کے ذریعے اپنے پسندیدہ ناموں اور انتخابی نشانوں کی تجاویز الیکشن کمیشن کو بھیج دی ہیں۔ تاہم، کالی گھاٹ گروپ نے کن ناموں اور انتخابی نشانوں کا انتخاب کیا ہے، اس بارے میں فی الحال رازداری برقرار رکھی جا رہی ہے اور نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب باغی رتبرت بنرجی کے گروپ نے جمعہ کی صبح اپنی قومی عاملہ کی زوم میٹنگ طلب کرکے متبادل ناموں اور انتخابی نشانوں پر غور کیا۔ ذرائع کے مطابق رتبرت گروپ اپنے مجوزہ نئے نام میں ’ترنمول‘ لفظ برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ پارٹی ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق اس گروپ کی جانب سے کمیشن کو دو اہم متبادل نام دیے جا رہے ہیں، جن میں پہلا ’راشٹروادی ترنمول کانگریس‘ اور دوسرا ’لوک تانترک ترنمول کانگریس‘ شامل ہے۔

اب ریاست کے سیاسی حلقوں میں اس بات کو لے کر تجسس ہے کہ انتخابی کمیشن دونوں گروپوں کو کن ناموں اور انتخابی نشانوں کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کی اجازت دیتا ہے۔اس سے قبل مغربی بنگال کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے تحت الیکشن کمیشن نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے نام اور اس کے انتخابی نشان ’جوڑا پھول‘ کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ 6 اکتوبر کو نندی گرام اور ریجی نگر اسمبلی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے عین قبل کیا گیا یہ فیصلہ ممتا بنرجی اور باغی رتبرت بنرجی، دونوں گروپوں کے لیے بڑا جھٹکاہے۔

کمیشن نے جمعرات کی رات واضح کیا کہ جب تک یہ طے نہیں ہوجاتا کہ اصل ترنمول کانگریس کون ہے اور پارٹی فنڈز پر کس کا حق ہے، تب تک کوئی بھی گروپ ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور پارٹی کے انتخابی نشان کا استعمال نہیں کر سکے گا۔

یہ پہلا موقع ہے جب 1998 میں پارٹی کے قیام کے 28 سال بعد مغربی بنگال میں کوئی انتخاب ’جوڑا پھول‘ نشان کے بغیر ہوگا۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق دونوں گروپوں کو ضمنی انتخابات کے لیے اپنے الگ الگ نام اور کمیشن کی آزاد انتخابی نشانوں کی فہرست میں سے الگ الگ نشان منتخب کرنے ہوں گے۔ تاہم، وہ چاہیں تو اپنے نئے نام کے ساتھ ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ سے اپنی وابستگی کا ذکر کر سکتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں کمیشن نے یہ عبوری حکم جاری کیا ہے، جبکہ پارٹی کی ملکیت کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد سے ہی ٹی ایم سی اندرونی بحران سے دوچار ہے۔ پارٹی میں بغاوت کے بعد باغی گروپ نے ممتا بنرجی کی جانب سے مقرر کردہ قائد حزب اختلاف شوبھن دیو چٹوپادھیائے کو ہٹا کر رت برت بنرجی کو اس عہدے پر فائز کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ تنظیمی سطح پر بھی باغی گروپ نے اروپ رائے کی صدارت میں نئی قومی عاملہ تشکیل دے دی ہے۔ ممتا بنرجی کی کبھی انتہائی قریبی سمجھی جانے والی چندریما بھٹاچاریہ اور فرہاد حکیم بھی اب رتبرت گروپ کے ساتھ ہیں۔

اس دوران بدھ کو ضمنی انتخابات کے لیے نامزدگی کی آخری تاریخ بھی ختم ہوگئی۔ دونوں گروپوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔ نندی گرام سے ممتا گروپ نے سنچیتا پردھان دے اور رتبرت گروپ نے محمد احتشام الحق کو امیدوار بنایا ہے۔ وہیں ریجی نگر سے ممتا گروپ کے امیدوار ربیع الاسلام چودھری اور رتبرت گروپ کے امیدوار شیخ صفی الدین زمان ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر کالی گھاٹ (ممتا) گروپ کے رہنماو¿ں کلیان بنرجی اور کنال گھوش نے فوری طور پر ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو پارٹی لیڈر خود اس معاملے پر بیان دیں گی۔ تاہم، ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی نے اسے مرکزی حکومت، بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی سازش قرار دیا ہے۔

دوسری جانب رتبرت گروپ کے اہم رہنما آخرالزمان نے کمیشن کے عبوری فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں پارٹی کا انتخابی نشان مستقل طور پر ان کے گروپ کو ملے گا، کیونکہ ان کے مطابق بیشتر ضلعی صدور اور قیادت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande