راہل گاندھی کی پوسٹ پر بی جے پی کا جوابی حملہ، سدھانشو ترویدی نے سیاسی معلومات پر اٹھائے سوال
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعہ کو جوابی حملہ کیا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے راہل گاندھی کی سیاسی معلومات پر
راہل گاندھی کی پوسٹ پر بی جے پی کا جوابی حملہ، سدھانشو ترویدی نے سیاسی معلومات پر اٹھائے سوال


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعہ کو جوابی حملہ کیا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے راہل گاندھی کی سیاسی معلومات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن سیاسی جماعتوں کی مثال دے کر وہ بی جے پی پر الزام لگا رہے ہیں، انہیں ان جماعتوں کے کانگریس سے الگ ہونے کی تاریخ سے واقفیت نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں شیوسینا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی) اور ترنمول کانگریس کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سدھانشو ترویدی نے کہا کہ راہل گاندھی کو ملک، معاشرے، ثقافت اور مذہب کی معلومات نہ ہونے کا تاثر پہلے سے موجود رہا ہے، لیکن ان کے تازہ بیان سے لگتا ہے کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کی سیاسی تاریخ کا بھی علم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے بی جے پی پر شیوسینا، این سی پی اور ترنمول کانگریس کو ختم کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ان جماعتوں کے قیام کے حالات کا تعلق کانگریس کی اپنی سیاسی تاریخ سے رہا ہے۔ ترویدی نے کہا کہ راہل گاندھی کو اپنی پارٹی کی سیاسی وراثت اور کانگریس سے الگ ہوکر وجود میں آنے والی جماعتوں کی تاریخ کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔سدھانشو ترویدی نے کہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا قیام شرَد پوار نے 1999 میں کانگریس سے الگ ہوکر کیا تھا۔ اسی طرح ممتا بنرجی نے 1997 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے ترنمول کانگریس قائم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں کانگریس کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کیا۔بی جے پی لیڈر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی تاریخ اور ان کے قیام کے حالات کو سمجھے بغیر کسی دوسری جماعت پر الزام عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کے بیان کو کانگریس کی اپنی سیاسی تاریخ سے عدم واقفیت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کانگریس سے الگ ہوکر بننے والی جماعتوں کی مثال دے کر بی جے پی پر سوال اٹھانا خود کانگریس کی سیاسی تاریخ پر سوال کھڑا کرتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر کی گئی اپنی پوسٹ میں شیوسینا، این سی پی اور اب ترنمول کانگریس کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر اپوزیشن جماعتوں کو تقسیم کرنے اور بعد میں ان کے انتخابی نشان پر پابندی لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande