
کولکاتا، 18 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعہ کو نندی گرام ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار ملن پردھان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہیں اس لیے کرنا پڑا کیونکہ ممتا دھڑے کی اپنی امیدوار سنچیتا پردھان ڈے نے اس اہم انتخاب سے اپنا نام واپس لے لیا۔ ممتا بنرجی نے واضح کیا کہ ان کا گروپ اب نندی گرام سے کوئی دوسرا امیدوار نہیں اتارے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف ’انڈیا‘ اتحاد (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس) کے تئیں یکجہتی کے طور پر پیش کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا، ’’ہم مضبوطی سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ بی جے پی ہندوستان سے جائے۔ ہماری مکمل یکجہتی انڈیا اتحاد کے ساتھ ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس فیصلے سے قبل ان کی حزبِ اختلاف کے اتحاد کے دیگر قائدین کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔ جمعرات کو کانگریس رہنما راہل گاندھی نے انہیں فون کیا تھا اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بھی حمایت کا پیغام بھیجا تھا۔
قابلِ ذکر ہے کہ آئندہ 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب سے عین قبل ممتا دھڑے کی امیدوار سنچیتا پردھان دے نے اچانک اپنا پرچۂ نامزدگی واپس لے لیا۔ ان کا یہ فیصلہ ریاستی سکریٹریٹ ’نوان‘ میں وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری کے ساتھ ہوئی ایک ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ اگرچہ ذرائع نے ابتدا میں اسے خیر سگالی ملاقات قرار دیا تھا، لیکن چونکہ وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نندی گرام کے سابق رکنِ اسمبلی اور ممتا بنرجی کے اہم سیاسی حریف ہیں، اس لیے اس ملاقات نے کئی سیاسی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ سیاسی پیش رفت ممتا بنرجی کے دھڑے کے لیے انتہائی ہنگامہ خیز دن سامنے آئی۔ الیکشن کمیشن نے دونوں حریف دھڑوں کے مابین تنازعہ کے سبب ترنمول کانگریس کا نام اور اس کا روایتی انتخابی نشان ’گھاس اور پھول‘ (جوڑا پھول) منجمد کر دیا ہے۔ آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے ممتا دھڑا اب ’ممتا سرو بھارتیہ ترنمول کانگریس‘ کے نام سے اور ’فٹبال پلیئر‘ نشان کے ساتھ الیکشن لڑے گا۔ وہیں، باغی دھڑے کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور ’لفافہ‘ انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ کمیشن کا یہ فیصلہ فی الحال عبوری ہے اور اصل پارٹی کی شناخت پر غور و خوض جاری ہے۔
ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر بھی سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے ہندوستان کی جمہوری تاریخ کا ’سیاہ دن‘ قرار دیا اور کمیشن پر سیاسی جانبداری اور انتقامی جذبے کے تحت کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے انتخابی نشان منجمد کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سب محض ایک سیاسی جماعت کی انا کو مطمئن کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ممتا نے الزام لگایا کہ ان کے دھڑے کے بینک کھاتے منجمد کر دیے گئے ہیں اور کارکنان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس حکمران جماعت کی ایک شاخ بن چکی ہے، ان کے 14 ہزار کارکنان جیل میں ہیں اور وہ خود نظربند ہونے کی وجہ سے کارکنوں سے ملاقات نہیں کر پا رہی ہیں۔
ہار نہ ماننے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کا دھڑا الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اپنا سر کبھی نہیں جھکائیں گے اور مضبوطی کے ساتھ واپسی کریں گے۔‘‘ اپنی قائم کردہ پارٹی کے سیاسی ورثے پر دعویٰ پیش کرتے ہوئے انہوں نے جذباتی انداز میں کہا، ’’جب تک میں اس دنیا سے رخصت نہیں ہو جاتی، میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کو نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘
واضح رہے کہ ترنمول کانگریس میں یہ تنازعہ مقننہ پارٹی سے شروع ہو کر پارلیمانی پارٹی اور بالآخر الیکشن کمیشن تک جا پہنچا۔ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد گزشتہ جون کے مہینے میں 58 باغی ارکانِ اسمبلی نے ممتا دھڑے کے امیدوار شوبھندیو چٹوپادھیائے کے بجائے معطل شدہ رہنما رتابرتہ بنرجی کو حزب اختلاف کے رہنما کے طور پر حمایت دی تھی، جسے اسمبلی اسپیکر نے منظوری بھی دے دی تھی۔ اس کے پانچ دن بعد ہی یہ بغاوت پارلیمنٹ تک جا پہنچی، جہاں سینئر رہنما کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں 20 لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ نے ایک علیحدہ دھڑا بنا کر قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو اپنی حمایت دے دی۔ اسی بغاوت کے بعد دونوں دھڑوں نے اصل پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن