بحری جہازوں کے تصادم کے معاملے میں ہندوستان نے پاکستان کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان نے بحیرہ عرب میں ہندوستانی جنگی جہاز اور پاکستانی بحری جہاز کے درمیان ہونے والے تصادم کے سلسلے میں پاکستان کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے پاکستانی فوجی یونٹوں کو مستقبل میں اس طرح
بحری جہازوں کے تصادم کے معاملے میں ہندوستان نے پاکستان کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔

ہندوستان نے بحیرہ عرب میں ہندوستانی جنگی جہاز اور پاکستانی بحری جہاز کے درمیان ہونے والے تصادم کے سلسلے میں پاکستان کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے پاکستانی فوجی یونٹوں کو مستقبل میں اس طرح کے واقعے کی تکرار نہ ہونے کی وارننگ بھی دی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو پریس بریفنگ کے دوران پورے واقعے پر پاکستان کی جانب سے دیے گئے جواب پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کا جواب دیکھا ہے۔ پڑوسی ملک کی عادت ٹال مٹول سے کام لینے کی رہی ہے اور ہمیں اسی طرح کے جواب کی توقع تھی۔ ہم اس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان کا الزام تھا کہ یہ تصادم پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں ہندوستانی جہاز کی اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول کارروائی کی وجہ سے ہوا۔

ترجمان جیسوال نے ایک بار پھر دہرایا کہ آئی این ایس کولکاتا مغربی بحیرہ عرب میں معمول کی تعیناتی پر تھا۔ پاکستانی بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے سمندر میں ناقابلِ قبول اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پورے واقعے میں آئی این ایس کولکاتا کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا ہے اور وہ اب بھی سمندر میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی جہاز خطرناک انداز میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طے شدہ فوجی معاہدوں کے خلاف ہے۔ ان معاہدوں میں واضح کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے بحری یونٹ ایک دوسرے کے تین ناٹیکل میل کے دائرے میں نہیں آنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی جہاز نے سمندر میں تصادم سے بچاو¿ کے لیے وضع کردہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 15 ستمبر کو بحیرہ عرب میں آئی این ایس کولکاتا اور پی این ایس حنین کے درمیان ہونے والے تصادم کے معاملے پر ہندوستان نے پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کرکے اپنا سخت احتجاج درج کرایا تھا اور پاکستانی جہاز کے ناقابلِ قبول رویے پر شدید اعتراض ظاہر کیا تھا۔

اس سلسلے میں پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ تصادم پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں ہندوستانی جہاز کی اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول کارروائی کی وجہ سے ہوا۔

سمندر کے بیچ پیش آنے والے اس واقعے کو اس لیے سنگین سمجھا جا رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان نے اپریل 1991 میں فوجی سرگرمیوں سے متعلق غلط فہمیوں اور حادثات کو روکنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کی دفعہ 10 میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں اور آبدوزوں کی بین الاقوامی سمندری حدود میں نقل و حرکت کے حوالے سے خصوصی دفعات شامل ہیں۔

اس کے تحت دونوں ممالک کے بحری جہاز ایک دوسرے سے تین ناٹیکل میل سے کم فاصلے پر نہیں آ سکتے، تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ تین ناٹیکل میل تقریباً 5.56 کلومیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔

اس شق کا ذکر ہندوستانی حکومت کے پرانے سرکاری ریکارڈ میں بھی ملتا ہے۔ اس لیے موجودہ واقعے میں ہندوستان کا اعتراض صرف تصادم ہونے پر نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی جہاز نے بین الاقوامی سمندر میں محفوظ نقل و حرکت کے لیے موجود دو طرفہ انتظامات کی پابندی نہیں کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande