بحیرہ احمر کے خطے میں سیکورٹی صورتحال کے ابتر ہونے پر ہندوستان فکر مند، سعودی عرب پر حملے قابلِ مذمت: جیسوال
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان نے بحیرہ احمر کے خطے میں سیکورٹی صورتحال کی ابتری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سعودی عرب کی خود مختار حدود پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور معاشی تنص
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال جمعہ کو وزارتِ خارجہ کی میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان نے بحیرہ احمر کے خطے میں سیکورٹی صورتحال کی ابتری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سعودی عرب کی خود مختار حدود پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے اس طرح کے حملے علاقائی امن و سلامتی کو متاثر کرتے ہیں اور باب المندب کے راستے جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں۔

جیسوال نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ کی میڈیا بریفنگ میں کہا، ’’ہم بحیرہ احمر کے خطے میں سیکورٹی صورتحال کے ابتر ہونے پر بے حد فکر مند ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے سعودی عرب کی خود مختار حدود پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں شہریوں اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ مکہ کے مقدس شہر پر کیے گئے حملے کی کوشش کے بعد ہندوستان نے اپنا بیان بھی جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے حملے علاقائی امن و امان کو متاثر کرتے ہیں نیز علاقائی سلامتی کو زک پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے باب المندب کے راستے جہاز رانی کی آزادی کے لیے بھی خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ ہمارے لیے مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ جیسوال نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد ہی امن و استحکام بحال ہوگا۔

قابلِ ذکر ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے فوجی اتحاد کے مابین ایک دہائی سے جاری تنازعہ سال 2022 میں اقوامِ متحدہ کی ثالثی کے بعد تھم گیا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ حوثی باغیوں کے اس اقدام سے اس اہم بحری گزرگاہ پر بحری جہازوں کے تحفظ سے متعلق خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ حوثی باغیوں کے متواتر حملوں نے پورے خطے کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اثر محض عرب ممالک تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا کے تیل بازاروں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande