ایچ اے ایل نے فضائیہ کو ایل سی اے تیجس مارک-1 کے آخری دو ٹرینر طیارے حوالے کر دیے
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے آج بنگلورو میں بھارتی فضائیہ کو لائٹ کومبیٹ ایئرکرافٹ (ایل سی اے) تیجس مارک-1 کے آخری دو ٹرینر طیارے حوالے کر دیے۔ اس کے ساتھ ہی ایچ اے ایل کو دیے گئے ابتدائی آرڈر کے تمام 40 طیاروں
فضائیہ


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے آج بنگلورو میں بھارتی فضائیہ کو لائٹ کومبیٹ ایئرکرافٹ (ایل سی اے) تیجس مارک-1 کے آخری دو ٹرینر طیارے حوالے کر دیے۔ اس کے ساتھ ہی ایچ اے ایل کو دیے گئے ابتدائی آرڈر کے تمام 40 طیاروں کی فراہمی مکمل ہوگئی ہے۔ اسی موقع پر ایچ اے ایل نے فضائیہ کو ایچ ٹی ٹی-40 بنیادی تربیتی طیارے اور پون ہنس لمیٹڈ کو دھرو این جی (نیکسٹ جنریشن) ہیلی کاپٹر بھی حوالے کیے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو کی موجودگی میں جمعہ کو ایچ اے ایل نے ایل سی اے تیجس کے دو ٹوئن سیٹر ٹرینر طیارے فضائیہ کے حوالے کیے۔ یہ ایل سی اے مارک-1 ٹرینر طیارے بھارتی فضائیہ کے 40 طیاروں کے پرانے آرڈر کی آخری کھیپ ہیں۔ فضائیہ نے یہ 40 طیارے دو مرحلوں میں مارچ 2006 اور دسمبر 2010 میں آرڈر کیے تھے۔ ان میں سے 38 طیارے پہلے ہی فضائیہ کو فراہم کیے جاچکے ہیں۔ اب آخری دو ٹوئن سیٹ ٹرینر طیاروں کی فراہمی کے ساتھ ابتدائی ایل سی اے مارک-1 آرڈر مکمل ہوگیا ہے۔ اس کے بعد ایچ اے ایل پر ایل سی اے مارک-1 اے کی فراہمی کا دباو¿ بڑھ گیا ہے۔

فضائیہ نے ایچ اے ایل کو دو مرحلوں میں 180 تیجس مارک-1 اے لڑاکا طیاروں کے آرڈر دیے ہیں۔ پہلا آرڈر فروری 2021 میں 83 لڑاکا طیاروں کے لیے، جبکہ دوسرا آرڈر گزشتہ سال ستمبر میں 97 طیاروں کے لیے دیا گیا تھا۔ دونوں معاہدوں کے تحت فضائیہ کو ایچ اے ایل سے 141 لڑاکا اور 39 ٹرینر طیارے ملنے ہیں۔ تاہم میزائل اور ریڈار انضمام سے متعلق مسائل کے ساتھ ساتھ انجن کی کمی کی وجہ سے ان کی فراہمی میں تاخیر ہورہی ہے۔

ایچ اے ایل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر روی کمار نے تیجس مارک-1 اے کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ طیارے میں میزائل اور ریڈار انضمام کے مسائل اور انجن کی کمی کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ اگلے چار سے پانچ سال میں تمام طیاروں کی فراہمی مکمل ہوجائے گی۔ ان طیاروں کی تیاری بنگلورو اور ناسک ڈویڑن میں کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایچ اے ایل بڑے پیمانے پر نجی شعبے کی شراکت داری سے فائدہ اٹھا رہی ہے، خواہ وہ ایل سی اے ہو، ہیلی کاپٹر ہو یا ایچ ٹی ٹی-40۔ ایچ اے ایل انضمام کا کام سنبھالتی ہے، جبکہ متعدد غیر بنیادی سرگرمیاں نجی صنعتی شراکت دار انجام دیتے ہیں۔

سی ایم ڈی روی کمار نے مزید کہا کہ میزائل اور ریڈار انضمام کے مسائل کی وجہ سے تیجس مارک-1 اے میں تاخیر ہو رہی ہے، لیکن جلد ہی اس کا حل متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ایئر فریم بنائے گئے ہیں اور ہمیں 10 انجن مل گئے ہیں، اس لیے ہم طیاروں کی ڈیلیوری شروع کر سکیں گے۔

اسی پروگرام میں پہلے بیچ میں تین ایچ ٹی ٹی 40 بنیادی ٹرینر طیارے فضائیہ کے حوالے کیے گئے ہیں۔ ایچ ٹی ٹی-40 بنیادی ٹرینر طیاروں کی فراہمی طویل عرصے سے رک گئی تھی۔ یہ بنیادی طور پر ہنی ویل کے ٹی پی ای-331-12 ٹربوپروپ انجنوں کے ساتھ عالمی سپلائی چین کے مسئلے کی وجہ سے تھا۔ انجنوں کی فراہمی کی منظوری کے ساتھ اب ان طیاروں کی فراہمی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ یہ تینوں طیارے مارچ 2023 میں وزارت دفاع کے ساتھ 6,838 کروڑ روپے مالیت کے 70 ایچ ٹی ٹی-40 طیاروں کے معاہدے کا حصہ ہیں۔

پون ہنس لمیٹڈ کو تفویض کردہ دھرو این جی ہیلی کاپٹر شہری استعمال کے لیے ہیں۔ پون ہنس نے 10 ہیلی کاپٹروں کا آرڈر دیا تھا، جن میں سے چار تقریب میں پہنچائے گئے۔ یہ سمندری کارروائیوں، ہنگامی طبی خدمات اور مسافروں کی نقل و حمل میں مفید ثابت ہوں ان میں جدید شیشے کے کاک پٹ اور حفاظتی خصوصیات ہیں۔ مرکزی حکومت ایرو اسپیس اور دفاعی شعبے میں مقامی ڈیزائن، ترقی اور مینوفیکچرنگ کو اعلی ترجیح دے رہی ہے۔ ان پلیٹ فارمز کی شمولیت غیر ملکی انحصار کو کم کرنے کی طرف ایک اور قدم ہے۔ ایچ اے ایل اب نہ صرف فوجی طیارے بلکہ سویلین ہیلی کاپٹر بھی تیار کر رہا ہے، جس سے ملک میں لڑاکا ہوا بازی کی صنعتی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande