سہ لسانی پالیسی پر سپریم کورٹ نے کہا- مرکز 6ویں جماعت کے طلبہ کو بھی راحت دینے پر غور کرے
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای کی سہ لسانی پالیسی پر سماعت کرتے ہوئے آج ایک بار پھر مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ 6ویں جماعت کے طلبہ کو راحت دینے پر غور کرے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے رکن جسٹس جوائے مالیا باغچی نے
cbse-three-language-policy


نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای کی سہ لسانی پالیسی پر سماعت کرتے ہوئے آج ایک بار پھر مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ 6ویں جماعت کے طلبہ کو راحت دینے پر غور کرے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے رکن جسٹس جوائے مالیا باغچی نے کہا کہ چونکہ یہ ایک قومی پالیسی ہے، اس لیے اس کے لیے ایک طے شدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ اگر ساتوں سے دسویں جماعت تک کے طلبہ کو چھوٹ دی گئی ہے تو چھٹویںجماعت کے طلبہ کو بھی یہ راحت کیوں نہیں دی جا سکتی؟

سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے کہا کہ چھٹویں جماعت ششم کے طلبہ کو چار سال بعد بورڈ امتحان کا سامنا کرنا ہے، اس لیے انہیں ابھی سے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکز نے کہا کہ اس پورے معاملے اور سہ لسانی پالیسی سے متعلق عملی مسائل پر غور کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے پر ایک تفصیلی نوٹ بھی داخل کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل آنند گروور نے مرکزی حکومت کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ افسران نے چھٹویں جماعت کے لیے اس پالیسی کے نفاذ میں نرمی دینے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ اس پر مرکز نے کہا کہ جماعت ہفتم سے دہم تک کے طلبہ کو اس پالیسی کے تحت پہلے ہی چھوٹ دی جا چکی ہے۔ ایسے میں 6ویںجماعت کے طلبہ کے لیے بھی سہ لسانی پالیسی نافذ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

یہ عرضی طلبہ، والدین اور اساتذہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ سی بی ایس ای کی نئی سہ لسانی پالیسی کے تحت نویں جماعت سے دو مزید زبانیں پڑھنا لازمی کر دیا گیا ہے۔ ان تین زبانوں میں دو ہندوستانی زبانوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اچانک نویں جماعت کے طلبہ کے لیے دو اضافی زبانیں پڑھنا لازمی قرار دینے سے ان کی دسویں جماعت کے بورڈ امتحان کی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔ طلبہ اچانک دو نئی زبانیں کیسے سیکھیں گے اور دسویں جماعت میں ان کا امتحان کیسے دیں گے؟ اس سے طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande