تمل ناڈو کی سرزمین پر ہندی نہیں پڑھائی جائے گی، ایسا نہیں ہو سکتا: سپریم کورٹ
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے تمل ناڈو حکومت سے کہا ہے کہ اسے ہندی کے معاملے پر اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس بی وی ناگ رتنا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمل ناڈو کی سرزمین پر ہندی نہیں پڑھائی جائے گی۔ سپریم کورٹ
SC-Tamil-Nadu-Hindi-language


نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے تمل ناڈو حکومت سے کہا ہے کہ اسے ہندی کے معاملے پر اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس بی وی ناگ رتنا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمل ناڈو کی سرزمین پر ہندی نہیں پڑھائی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے چنئی اور دہلی کو ایک دوسرے سے الگ -تھلگ رکھنے کی سوچ پر بھی سوال اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ چنئی میں رہنے والے لوگوں کو دہلی میں رہنے والے لوگوں سے الگ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی دہلی کو چنئی سے۔ عدالت نے یہ تبصرہ تمل ناڈو حکومت کی ایک عرضی پر سماعت کے دوران کیا۔ ریاستی حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں ہر ضلع میں نوودے ودیالیہ شروع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ نوودے ودیالیہ کا نظام اس کی تعلیمی اور لسانی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس سے قبل 15 دسمبر 2025 کو سپریم کورٹ نے تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ ریاست میں نوودے ودیالیہ قائم کرنے کے لیے مرکز کے ساتھ مل کر زمین کی نشاندہی کرے۔ عدالت نے تمل ناڈو حکومت سے کہا تھا کہ ریاست میں نوودے ودیالیہ قائم کرنے کے معاملے کو زبان کے تنازعہ میں تبدیل نہ کیا جائے۔

سماعت کے دوران تمل ناڈو حکومت نے کہا تھا کہ نوودے ودیالیہ تین زبانوں کا فارمولہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ تمل ناڈو میں قانونی طور پر دو زبانوں کی پالیسی نافذ ہے۔ اس پر عدالت نے کہا تھا کہ زبان کو مسئلہ نہ بنایا جائے۔ ہم ایک وفاقی نظام میں ہیں اور آپ جمہوریہ کا حصہ ہیں۔ یہ وفاقی نظام سے متعلق معاملہ ہے اور ریاست پر کچھ مسلط کرنے کی بات نہیں ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ اس کا حکم تمل ناڈو کے دیہی طلبہ کے مفاد میں ہے، جو ان اسکولوں میں داخلے کے حقدار ہیں۔

سماعت کے دوران تمل ناڈو حکومت نے کہا تھا کہ مرکز پر سمگر شکشا ابھیان کے تحت 3 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بقایا ہے۔ عدالت نے تمل ناڈو حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مرکز کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنی شرائط رکھ سکتی ہے، جن میں دو زبانوں کی پالیسی پر عمل اور مالی بقایا رقم کی ادائیگی شامل ہو سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande