
کوالالمپور، 17 ستمبر (ہ س)۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے بدھ کے روز کہا کہ وہ میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ سے صدر بننے والے من آنگ ہلاینگ کو سرکاری دورے کی دعوت دیں گے۔ اس دوران ملائیشیا ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں کی میانمار واپسی کے معاملے پر بات چیت کرے گا۔
انور نے کہا کہ ملائیشیا میانمار کی موجودہ حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، لیکن پناہ گزینوں کی واپسی جیسے مسائل پر گفتگو کے لیے میانمار کے ساتھ رابطہ و مکالمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی بات چیت کے ذریعے ہی روہنگیا پناہ گزینوں کی محفوظ اور مرحلہ وار واپسی کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔
انور کے مطابق، میانمار نے تقریباً 5,000 پناہ گزینوں کی واپسی کی منظوری دے دی ہے۔ ان کی واپسی کے اخراجات ملائیشیا برداشت کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ابتدائی مرحلے کے بعد دیگر پناہ گزینوں کی واپسی بھی مرحلہ وار طریقے سے ممکن ہو سکے گی۔
ملائیشیا نے اس سے قبل کہا تھا کہ رضاکارانہ واپسی پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت ستمبر میں تقریباً 1,500 میانمار پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ البتہ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ سی آر) کے مطابق میانمار واپس جانا روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے ابھی محفوظ تصور نہیں کیا جاتا۔
من آنگ ہلاینگ نے 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ اپریل میں صدر بننے کے بعد سے وہ غیر ملکی دوروں اور سرکاری اسفار کے ذریعے اپنی حکومت کے لیے بین الاقوامی قبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انور نے کہا کہ ملائیشیا ماضی میں میانمار کی فوجی حکومت کا سخت ناقد رہا ہے اور تنازعہ روکنے سے انکار پر اس نے کئی بار مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اب پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے میانمار کے ساتھ حقیقت پسندانہ بات چیت کی ضرورت ہے۔
من آنگ ہلاینگ حالیہ مہینوں میں لاوس، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویتنام کے علاوہ چین، ہندوستان اور روس کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔ ملائیشیا کا دورہ ہونے پر وہ آسیان کے 11 رکن ممالک میں سے پانچویں ملک کا دورہ کریں گے۔
روہنگیا میانمار کی ایک مظلوم اقلیتی برادری ہے۔ بڑی تعداد میں روہنگیا طویل عرصے سے میانمار سے نقل مکانی کر کے پڑوسی ممالک میں پناہ لیتے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں دس لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں، جب کہ ملائیشیا میں بھی میانمار سے آنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
انور نے روہنگیا برادری کی پریشانیوں اور مصائب کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا انہیں مستقل طور پر اپنے ہاں پناہ نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے میانمار سے بات چیت اور سفارت کاری ناگزیر ہے۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ میانمار پر محض دباو ڈالنے کے بجائے باہمی مکالمے کے ذریعے پناہ گزینوں کی واپسی کی راہ تلاش کرنا زیادہ عملی قدم ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن