
تہران، 17 ستمبر (ہ س)۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت، باہمی مفاہمت اور احترام کے ذریعے تنازعات کو سلجھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خطے کے ممالک سے باہمی تعاون کو فروغ دینے اور عدم استحکام کے اسباب کو کم کرنے کی اپیل کی۔
ایرانی حکومت کے بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق، عراق کی پیٹریاٹک یونین آف کردستان (پی یو کے) کے سربراہ بافیل طالبانی کے ساتھ ملاقات میں صدر مسعود پزیشکیان نے ایران اور عراقی کردستان کے عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سماجی تعلقات کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
پزیشکیان نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور اسرائیل خطے کے ممالک کو کمزور کرنے اور ان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے انتشار اور تصادم کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے کے ممالک کو باہمی تعاون اور مذاکرات کو وسعت دینی چاہیے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اگر کسی گروپ کے جائز مطالبات ہیں، تو ایران بات چیت اور باہمی احترام کے دائرے میں ان مسائل کو حل کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پڑوسی ممالک سے بھی غیر مناسب رویوں اور بے جا مطالبات سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے مسلم ممالک کے مابین مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی مسائل کا حل باہمی اشتراک، گفتگو، غیر جانبداری اور انصاف کے ذریعے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران پزیشکیان نے ایران اور عراقی کردستان کے خطے کے مابین معاشی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بھی زور دیا۔ دوسری جانب، بافیل طالبانی نے ایران کو عراقی کردستان کے خطے کا گہرا اور قریبی دوست قرار دیتے ہوئے دونوں فریقوں کے مابین تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
طالبانی نے سرحدی سیکورٹی کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کردستان خطے سے متصل ایرانی سرحد پر سیکورٹی مزید پختہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے مابین طے پانے والے سیکورٹی معاہدے کے تحت سرحدی علاقوں میں سرگرم حکومت مخالف گروہوں سے نمٹنے اور خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ طالبانی کے ہمراہ ایک معاشی ٹیم بھی ایران پہنچی، جس کا مقصد تجارت اور معاشی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
طالبانی کی ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی کے ساتھ بھی باضابطہ ملاقات ہوئی۔ رضائی نے سرحدی سیکورٹی اور دہشت گرد تنظیموں کی بیخ کنی کو اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے عراقی کردستان کے خطے میں اسرائیل کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی متنبہ کیا۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں رضائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو امریکہ پر کوئی اعتبار نہیں ہے اور اعتماد کی بحالی کے لیے واشنگٹن کو عملی اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ دوسری جانب، طالبانی نے ایران کے ساتھ معاشی، دفاعی اور سفارتی تعاون کو فروغ دینے کی مکمل حمایت کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن