
واشنگٹن، 17 ستمبر (ہ س)۔ کینیڈا نے برطانیہ کی قیادت والی جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس (جے ای ایف) میں شامل ہونے کے لیے باضابطہ طور پر درخواست دی ہے۔ اسے کینیڈا اور برطانیہ سمیت یورپی اتحادی ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے دفتر نے بدھ کو بتایا کہ کارنی نے جے ای ایف میں شامل ہونے کے لیے درخواست کا اعلان کیا اور اس اقدام میں کینیڈا کی شمولیت کے لیے برطانیہ کی حمایت کا خیرمقدم کیا۔
یہ اعلان برطانیہ میں کارنی اور برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کینیڈا اور برطانیہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
جے ای ایف میں فی الحال ڈنمارک، ایسٹونیا، فن لینڈ، آئس لینڈ، لٹویا، لتھوانیا، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں۔ یہ اتحاد بنیادی طور پر شمالی یورپ اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
ملاقات کے دوران کارنی اور برنہم نے گلوبل کامبیٹ ایئر پروگرام (جی سی اے پی) کے ذریعے دفاعی صنعتی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کینیڈا جولائی میں اس پروگرام میں مبصر کی حیثیت سے شامل ہوا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے کینیڈا کے جی سی اے پی میں پہلے مبصر ملک بننے کا بھی خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ مواقع اور چیلنجز پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ مشترکہ خدشات سے نمٹنے اور آن لائن سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
کینیڈا کی جانب سے جے ای ایف میں شامل ہونے کی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اوٹاوا برطانیہ اور یورپی ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں اقدامات کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد