
لداخ , 17 ستمبر (ہ س)۔ مرکز کے زیر انتظام لداخ کی انتظامیہ نے گلیشیئر سے بہہ کر ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ کرکے بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے ’پروجیکٹ ہِم سروور‘ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت لیہہ ضلع کے اسپیتوک فرکا میں اسٹوک گلیشیئر کے پانی کو موڑ کر چار آبی ذخائر تیار کیے گئے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق چاروں آبی ذخائر کی مجموعی گنجائش تقریباً 2.4 کروڑ لیٹر ہے۔ ان میں جمع پانی کو سینکڑوں ایکڑ زمین کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔چاروں ذخائر کی تعمیر کا کام 10 اپریل کو شروع کیا گیا تھا۔ پہلا ذخیرہ 21 جون، دوسرا 19 جولائی، تیسرا 24 اگست اور چوتھا 9 ستمبر تک گلیشیئر کے پگھلنے والے پانی سے بھر گیا۔ہر آبی ذخیرے کی لمبائی تقریباً 60 میٹر، چوڑائی 40 میٹر اور گہرائی دو میٹر ہے، جبکہ ہر ایک میں تقریباً 60 لاکھ لیٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔
اسی طرح روپشو خارناک گلیشیئر سے روزانہ بہنے والے تقریباً 3200 لیٹر پانی کو موڑ کر سو کار جھیل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے گلیشیئر کے پانی کے تحفظ کے منصوبے کو زراعت کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس پانی کے استعمال سے تقریباً ایک ہزار ایکڑ زمین پر کاشتکاری میں مدد مل سکتی ہے۔لداخ میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے مختلف مقامات پر چیک ڈیم بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں، تاکہ گرمی کے موسم میں گلیشیئرز سے پگھلنے والے پانی کو محفوظ کرکے مقامی ضروریات اور زراعت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر