کشتواڑ نابالغہ کی عصمت دری و موت کے معاملے میں کرائم برانچ نے الٹراساؤنڈ و ڈائگناسٹک سینٹر کی تلاشی لی
جموں, 17 ستمبر (ہ س)۔ ضلع کشتواڑ کے چھاترو میں نابالغہ عصمت دری و موت معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں کرائم برانچ جموں نے گزشتہ روز کشتواڑ قصبے میں واقع ایک الٹراساؤنڈ و ڈائگناسٹک سینٹر کی تلاشی لی۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دو
کشتواڑ نابالغہ کی عصمت دری و موت کے معاملے میں کرائم برانچ نے الٹراساؤنڈ و ڈائگناسٹک سینٹر کی تلاشی لی


جموں, 17 ستمبر (ہ س)۔ ضلع کشتواڑ کے چھاترو میں نابالغہ عصمت دری و موت معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں کرائم برانچ جموں نے گزشتہ روز کشتواڑ قصبے میں واقع ایک الٹراساؤنڈ و ڈائگناسٹک سینٹر کی تلاشی لی۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور طبی ریکارڈ قبضے میں لے لیے۔

ذرائع کے مطابق کرائم برانچ کی ٹیم نے سینٹر میں موجود دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کی جانچ کی۔ ضبط کیے گئے ریکارڈ میں نابالغہ کے حمل اور موت سے قبل ہونے والے طبی معائنے سے متعلق دستاویزات بھی شامل ہیں۔یہ کارروائی پولیس اسٹیشن چھاترو میں درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے تحت جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔

تفتیش کار ضبط شدہ ریکارڈ کی جانچ کرکے واقعات کی ترتیب اور معاملے سے مبینہ طور پر وابستہ افراد کے کردار کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ 20 اگست کو حمل ختم کرنے کی مبینہ کوشش کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بعد نابالغہ کی موت ہوگئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران جنسی زیادتی اور حمل کے الزامات سامنے آنے کے بعد پولیس نے پوکسو ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ بعد میں ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔

ابتدائی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں معاملے کی جامع تحقیقات کے مطالبات کے درمیان انتظامیہ نے 29 اگست کو کیس کی تحقیقات کرائم برانچ جموں کے حوالے کر دی تھیں۔

کرائم برانچ اب طبی ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کو باہم ملا کر معاملے کی مکمل کڑی جانچ رہی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مختلف شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی مشتبہ افراد کے کردار سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande