
مسقط، 17 ستمبر (ہ س)۔ بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی سفارت کاروں نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں حوثی نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی۔ معاملے سے واقف ایک علاقائی ذریعے کے مطابق، یہ ملاقات ہفتے کے آخر میں عمان میں واقع امریکی سفارت خانے میں ہوئی۔ ملاقات میں امریکہ اور حوثیوں کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور باب المندب آبنائے کو کھلا رکھنے پر بات چیت کی گئی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ملاقات عمانی حکومت کی مدد سے منعقد کی گئی تھی۔ امریکا کی کوشش ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازعہ میں براہِ راست فوجی طور پر شامل ہوئے بغیر بحیرۂ احمر کے اس اہم سمندری راستے میں آمد و رفت کو جاری رکھ سکے۔ واشنگٹن نے اب تک سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون کی درخواستوں کو قبول نہیں کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، امریکا کی جانب سے اس ملاقات میں امریکی سفارت خانے کے سفارت کار شامل ہوئے، تاہم امریکی سفیر موجود نہیں تھے۔ ملاقات کے دوران حوثی نمائندوں نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مئی 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ دوبارہ شروع ہونے والی ان کی کارروائیاں صرف سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ حوثیوں نے باب المندب آبنائے سے دیگر جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت برقرار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے ملاقات کی خبروں پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ محکمے کے ترجمان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہم مفادات میں بحیرۂ احمر اور خطے میں آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانا اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنا شامل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ ، یمن کے معاملے پر اپنے علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا حوثیوں اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مشترکہ انسدادِ دہشت گردی کے اہداف پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ملاقات کے ایک دن بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ حوثیوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ براہِ راست حوثیوں کے ساتھ مذاکرات میں شامل رہا ہے اور انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے بات چیت کی۔
بحیرۂ احمر کے بحران کے دوران یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی حالیہ دنوں میں بڑھ گئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان میں مکہ کی سمت کیے گئے ڈرون حملے اور سعودی عرب کے دیگر شہروں کو نشانہ بنانے والے میزائل حملے بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب نے یمن میں حوثی ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔ تاہم، سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کو اب تک زمین پر حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ حوثی باغی اب بھی باب المندب آبنائے کے اطراف ساحلی علاقوں اور کئی جزائر پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ کے لیے اس سمندری راستے کو کھلا رکھنا اہم ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
مسقط میں ہونے والی ملاقات سے اشارہ ملتا ہے کہ عمان امریکہ اور حوثیوں کے درمیان رابطے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو برقرار رکھتے ہوئے یمن کے تنازعہ میں براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد