جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت سے انکار اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن ہے
”دستور بچاو ، ملک بچاو“ تحریک حسبِ معمول جاری رہے گی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نئی دہلی:17 ، ستمبر(ہ س )۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی پولیس کی جانب سے بورڈ کے مجوزہ احتجاجی دھرنے کو ا?خری وقت میں اجازت دینے سے انکار پر شدید تشویش اور م
جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت سے انکار اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن ہے


”دستور بچاو ، ملک بچاو“ تحریک حسبِ معمول جاری رہے گی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی:17 ، ستمبر(ہ س )۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی پولیس کی جانب سے بورڈ کے مجوزہ احتجاجی دھرنے کو ا?خری وقت میں اجازت دینے سے انکار پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج اور اظہارِ رائے شہریوں کا بنیادی اور دستوری حق ہے، جسے انتظامی فیصلوں کے ذریعے سلب نہیں کیا جانا چاہئے۔

بورڈ کے ترجمان اور ”دستور بچاو ، ملک بچاو تحریک کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے گزشتہ دس دنوں کے دوران تین مرتبہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کا دورہ کرکے ایس ایچ او اور ڈی سی پی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دھرنے میں مقررہ تعداد سے زیادہ افراد شریک نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود دھرنے سے صرف ایک روز قبل یہ کہتے ہوئے اجازت منسوخ کردی گئی کہ پولیس کو بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کا خدشہ ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو یک طرفہ اور غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی جنتر منتر پر بورڈ کی جانب سے متعدد پُرامن مظاہرے منعقد ہوئے ہیں اور تمام مقررہ ضوابط کی پابندی کی گئی ہے۔

بورڈ نے واضح کیا کہ یہ دھرنا ”دستور بچاو، ملک بچاو“ ملک گیر تحریک کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس تحریک کے ذریعے ملک کے محروم و مظلوم طبقات، اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی پامالی، ماب لنچنگ کے واقعات، جان و مال اور عزت و آبرو پر حملوں، مساجد، مدارس اور مسلم آبادیوں کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں، مذہبی و ثقافتی آزادی پر قدغن، مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں، نیز وندے ماترم کو لازمی قرار دینے جیسے مسائل پر عوامی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے۔

بورڈ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے 2029 تک بی جے پی زیرِ اقتدار تمام ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کے بیان نے ملک میں مذہبی و ثقافتی تنوع اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ مسلمان اپنے پرسنل لا کے تحفظ کو اپنے مذہبی اور دستوری حقوق کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہندوستان مختلف مذاہب، تہذیبوں اور زبانوں کا ملک ہے اور آئین اس تنوع کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ بورڈ کے مطابق اس تنوع کو متا ثر کرنے والی کوئی بھی پالیسی سنجیدہ دستوری سوالات پیدا کرتی ہے۔

بورڈ نے وندے ماترم کے تمام بندوں کو لازمی قرار دینے کی کوشش پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی کے اظہار کے لئے کسی مخصوص نغمے کی مکمل ادائیگی کو لازمی قرار دینا مذہبی ا?زادی اور شہری آزادیوں کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

بورڈ نے ملک کی موجودہ معاشی و سماجی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور خواتین کے خلاف جرائم جیسے بنیادی مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات کی طرف مبذول کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ ”دستور بچاو، ملک بچاو“ تحریک کا مقصد عوام کو ان کے دستوری حقوق کے بارے میں بیدار کرنا، جمہوری اور سیکولر اقدار کا تحفظ کرنا اور ملک میں انصاف، آزادی، مساوات، انسانی وقار اور بھائی چارے کے ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔ جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود یہ ملک گیر تحریک اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گی۔

پریس کانفرنس میں مولانا عبیداللہ خان اعظمی، نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

سید سعادت اللہ حسینی، نائب صدر و امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، جنرل سکریٹری ، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، سکریٹری، مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، جنرل سکریٹری، جمعیت علماء ہندنے خطاب کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande