شاستری پل سے گنگا میں کودنے والی خاتون 12 گھنٹے بعد چنار میں بحفاظت ملی
۔دوا کے لیے رقم مانگنے پر شوہر سے تنازعہ کے بعد اٹھایا قدم، ماہی گیروں نے دریا سے نکال کر علاج کرایا مرزاپور، 16 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کے مرزاپور میں کٹرا کوتوالی علاقے کے شاستری پل سے منگل کی شام گنگا میں چھلانگ لگانے والی خاتون تقریباً 12 گھنٹے
UP-WOMAN-JUMPED-INTO-GANGA


۔دوا کے لیے رقم مانگنے پر شوہر سے تنازعہ کے بعد اٹھایا قدم، ماہی گیروں نے دریا سے نکال کر علاج کرایا

مرزاپور، 16 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کے مرزاپور میں کٹرا کوتوالی علاقے کے شاستری پل سے منگل کی شام گنگا میں چھلانگ لگانے والی خاتون تقریباً 12 گھنٹے بعد بدھ کی صبح چنار کے قریب دریا میں بحفاظت مل گئی۔ گنگا میں مچھلی پکڑنے والے ماہی گیروں نے اسے بہتے ہوئے دیکھا اور دریا سے باہر نکال کر اس کا علاج کرایا۔ خاتون کے محفوظ ملنے کی اطلاع پر اہل خانہ نے راحت کی سانس لی۔

کٹرا کوتوالی علاقے کے چھوٹی بسہی کی رہنے والی 38 سالہ سنیتا ساہنی نے پولیس کو بتایا کہ اس کا شوہر گجرات کے جام نگر میں رہتا ہے۔ منگل کی شام تقریباً چار بجے موبائل فون پر بات چیت کے دوران اس نے دوا کے لیے رقم بھیجنے کو کہا تھا۔ خاتون کے مطابق، شوہر نے رقم بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ جا کر مر جائے۔

شوہر کی بات سے دلبرداشتہ ہو کر سنیتا گھر سے نکل گئی اور تقریباً شام پانچ بجے شاستری پل سے گنگا میں چھلانگ لگا دی۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اس کی تلاش میں مصروف تھی۔ بدھ کی صبح تقریباً پانچ بجے چنار علاقے میں گنگا میں مچھلی پکڑنے والے گنیش ساہنی، رام بابو ساہنی اور رنجیت ساہنی کی نظر دریا میں بہتی ہوئی خاتون پر پڑی۔ تینوں نے اسے باہر نکالا اور اپنے گھر لے جا کر ڈاکٹر کو بلا کر ابتدائی علاج کرایا۔

اطلاع ملنے پر پولیس بھی موقع پر پہنچی اور خاتون کا بیان درج کیا۔ اس کے بعد اسے اس کی والدہ ساوتری دیوی اور چچازاد بھائی راجن کے حوالے کر دیا گیا، جو اس کے میکے سے وہاں پہنچے تھے۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande