
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر مملکت برائے امورِ نوجوانان و کھیل رکشا کھڈسے نے 15 اور 16 ستمبر کو میزورم کے سرکاری دورے کے دوران سیتوئل اور کولاسِب اضلاع میں ضلعی سطح کی جائزہ میٹنگوں کی صدارت کی۔ ان اجلاسوں میں مرکزی حکومت کی اسکیموں کے نفاذ، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے، نوجوانوں کی شرکت، منشیات کی روک تھام، زراعت، رابطہ نظام، صحت کی خدمات اور روزگار سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
سیتوئل میں نوجوانوں کی شرکت اور کھیلوں پر توجہ
سیتوئل میں منعقدہ اجلاس میں ضلع کلکٹر شری نواس سادی، پولیس سپرنٹنڈنٹ وویک کمار موریہ، سینئر ضلعی افسران، کھیلوں کی فیڈریشنوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام اہم موضوع رہا۔
رکشا کھڈسے نے ”نشہ مکت بھارت“ مہم کو موثر انداز میں آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے نوجوان گروپوں، سماجی تنظیموں اور قانون و انتظام سے متعلق محکموں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ساتھیوں کے ذریعے بیداری پیدا کرنا، نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں میں شامل کرنا اور برادری کی سطح پر مسلسل کوششیں اہم ہیں۔
اجلاس میں سیتوئل کی زرعی اور باغبانی کی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مقامی نامیاتی مصنوعات کو بہتر بازار تک رسائی اور مضبوط سپلائی نظام فراہم کرنے پر زور دیا گیا، تاکہ کسان وسیع تر بازاروں سے موثر انداز میں جڑ سکیں۔
مقامی کھیل فیڈریشنوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور کھلاڑیوں کی ترقی سے متعلق زمینی سطح کی ضروریات پیش کیں۔ رکشا کھڈسے نے کہا کہ کھیلوں کی سہولتوں کے ساتھ باقاعدہ کوچنگ، منظم تربیت اور کھلاڑیوں کو مسلسل تعاون فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے نچلی سطح پر کھیلوں کے مواقع بڑھانے میں ”کھیلو انڈیا“ اسکیم کے کردار پر بھی زور دیا۔
کولاسِب میں سڑک، صحت اور روزگار کا جائزہ
کولاسِب میں ضلعی جائزہ اجلاس میں ضلع کلکٹر ایچ. ڈولیانبوئیا، پولیس سپرنٹنڈنٹ لال رِن پویا وارٹے، سینئر انتظامی افسران اور مختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس میں سڑکوں کے رابطے کو اہم ترجیح قرار دیا گیا۔ مقامی لوگوں کی بازاروں، ضروری خدمات اور معاشی مواقع تک رسائی بہتر بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر نے ضلع کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، پانچ پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور نرسنگ اسکول کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے موجودہ طبی بنیادی ڈھانچے کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
زراعت کے شعبے میں کرشی وگیان کیندر کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کولاسِب میں 10 ہزار سے زائد فعال کسان ہیں، جبکہ کرشی وگیان کیندر پانچ ہزار سے زیادہ کسانوں کو تکنیکی رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ مرکز بین الریاستی انٹرن شپ اور گیسٹ فیکلٹی پروگرام بھی چلاتا ہے۔
اجلاس میں کوآپریٹو شعبے اور جن اوشدھی مراکز کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ضلع میں 102 فعال کوآپریٹو سوسائٹیاں ہیں، جن میں زیادہ تر زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے ذریعے مقامی روزگار اور برادری کی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مقامی کاروبار کے فروغ پر زور
رکشا کھڈسے نے پردھان منتری روزگار سرجن پروگرام کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا۔ مالی سال 2025تا2026 کے دوران پورٹل تک رسائی سے متعلق مسائل کے باعث منظوری کا عمل متاثر ہوا تھا۔ اجلاس میں فرنیچر ورکشاپس، کریانہ دکانوں اور منرل واٹر یونٹس سمیت شناخت کیے گئے 25 مقامی کاروباری منصوبوں کو جلد امداد فراہم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عوامی تقسیم کے نظام اور پردھان منتری اجولا یوجنا کے جائزے کے دوران وزیر نے مستفید ہونے والوں کے اعداد و شمار میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور ریکارڈ درست رکھنے کی ہدایت دی، تاکہ تمام اہل خاندان اسکیموں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
کولاسِب میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی تیاری
کولاسِب کے جائزہ اجلاس میں کھیل بھی اہم موضوع رہا۔ ضلع میں فٹ بال، ہاکی اور کشتی کو اہم کھیلوں کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ کولاسِب کے کھلاڑی قومی سطح کی فٹ بال لیگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ ضلع میں ہاکی کا میدان بھی موجود ہے اور یہاں سے ایک قومی سطح کا ہاکی کھلاڑی سامنے آ چکا ہے۔
مقامی کھلاڑیوں کو منظم کوچنگ اور مسلسل تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک مخصوص تربیتی مرکز کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی۔ رکشا کھڈسے نے ”وی بی-گرام-جی“ اقدام کے تحت تیار کیے جا رہے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا، جس میں فٹ بال اور والی بال کے میدان اور موجودہ سہولتوں کی دیکھ بھال شامل ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ضلع کے تمام 51 گاوں میں اس اقدام کے تحت کھیل کے میدان تیار کیے جائیں، تاکہ نوجوانوں کو اپنی برادری کے قریب کھیلوں کی سہولتیں میسر آسکیں۔
مائی بھارت کے ذریعے نوجوانوں کی شرکت بڑھانے پر زور
کولاسِب میں نوجوانوں کی شرکت اور منشیات کی روک تھام کے موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ضلع میں ”نشہ مکت“ مہم کے تحت جاری بیداری اور انسدادِ منشیات کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
رکشا کھڈسے نے نوجوانوں کی توانائی کو کھیل، تعلیم، سماجی خدمت اور تعمیری سماجی سرگرمیوں کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں بیداری کی سرگرمیاں بڑھانے اور نوجوانوں تک مثبت پیغام پہنچانے میں ساتھی نوجوانوں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
ضلعی یوتھ افسر نے بتایا کہ کولاسِب میں تقریباً 9 ہزار نوجوان مائی بھارت پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ ہیں۔ وزیر نے بیداری کی سرگرمیوں میں مائی بھارت رضاکاروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور رضاکاروں و پولیس محکمہ کے درمیان بہتر تال میل کی اپیل کی۔
زمینی ترقی کے لیے مربوط کوششوں پر زور
دونوں اضلاع کے جائزہ اجلاسوں میں رکشا کھڈسے نے کہا کہ ملک کی ترقی کے سفر میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے اور ان کی توانائی و صلاحیت کو کھیل، تعلیم، کاروبار، سماجی شرکت اور پیداواری روزگار کے مواقع سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے میزورم جیسے کھیلوں کے باصلاحیت علاقوں میں نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس کے لیے کھیلوں کی سہولتوں، معیاری کوچنگ، منظم تربیت اور کھلاڑیوں کو مناسب تعاون فراہم کرنے کی ضرورت بتائی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری اسکیموں کا مو¿ثر نفاذ درست اعداد و شمار، محکموں کے درمیان بہتر تال میل اور مقامی برادریوں کے ساتھ مسلسل رابطے پر منحصر ہے۔ جائزہ اجلاسوں میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، نوجوانوں کے اداروں، کھیل تنظیموں، زرعی اداروں، کوآپریٹو سوسائٹیوں اور سماجی تنظیموں کے درمیان تال میل مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی