
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س):۔
وزیرِاعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز سیمی کنڈکٹر شعبے کی اہم کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کے ساتھ گول میز اجلاس میں صنعت کاروں سے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر شعبے کی ترقی کے اگلے مرحلے میں فعال طور پر حصہ لینے کی اپیل کی۔
مودی نے سیوا تیرتھ میں منعقدہ اجلاس میں کہا کہ ہندوستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں ابتدائی طور پر قائدانہ حیثیت رکھنے والے ممالک میں شامل ہونے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر شعبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اب ہندوستان کا ماحولیاتی نظام بنیادی کوششوں سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے اور نئے مواقع کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
وزیرِاعظم نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہندوستان کے مستقبل کو تشکیل دینے کے لیے حکومت اور سیمی کنڈکٹر صنعت کے درمیان قریبی تعاون کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس باصلاحیت افراد، ٹیکنالوجی کو اپنانے کی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔
انہوں نے صنعت سے ہنرمندی کی ترقی، اختراع اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں زیادہ فعال شمولیت کی اپیل کی۔
وزیرِاعظم نے اے آئی کے شعبے میں ایک کروڑ افراد کو تربیت دینے کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی افرادی قوت اور عالمی صنعت کے قائدین کے تجربات و صلاحیتوں کے امتزاج سے بڑے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے ایسی پالیسی سازی کے نظام کے تئیں حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جو قابلِ پیش گوئی ہو اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ردِعمل دینے والا ہو۔ مودی نے کہا کہ تکنیکی تبدیلیوں اور صنعت کی ضروریات کے مطابق پالیسیوں میں بھی تبدیلی ہونی چاہیے۔
انہوں نے صنعت کے قائدین سے پالیسی اور انتظامی اقدامات کے حوالے سے تجاویز دینے کی اپیل کی اور کہا کہ شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان کی تجاویز پر مناسب غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں شریک سی ای اوز اور دیگر نمائندوں نے ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی مسلسل کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مینوفیکچرنگ، ڈیزائن، بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت کی ترقی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کیا اور ’آئی ایس ایم 2.0‘ کے تحت ابھرتے ہوئے مواقع کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے ہندوستان کو عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر اور ٹیکنالوجی مرکز بنانے میں تعاون کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں سیمی، مائکرون، انفینیان، اپلائیڈ میٹیریلز، اے ایس ایم ایل، مرک، ٹوکیو الیکٹران، فوجی فلم، اے ایم ڈی، انٹیل، ٹاٹا الیکٹرانکس، لیم ریسرچ، ریپیڈس، این ایکس پی، فوکس کان، سیمی کنڈکٹر ڈیوائسز، ایڈوان ٹیسٹ، سیلیسٹا کیپیٹل، سی جی پاور اور آئی بی ایم ریسرچ سمیت مختلف اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ