
جگدل پور، 16 ستمبر (ہ س):۔
چھتیس گڑھ کے معروف جھیرم گھاٹی نکسل حملے کے معاملے میں مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ جگدل پور کی ضلعی و سیشن عدالت میں قائم این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج اجے سنگھ راجپوت نے تمام 10 مجرموں کو سزائے موت سنائی ہے۔
جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرموں کو 30 دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے 5 ستمبر کو تقریباً 13 سال تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران 101 گواہوں کے بیانات اور دستاویزات کی بنیاد پر 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا تھا۔
تمام مجرموں، پرمیلا موڈیم، سمترا پونیم، مکا مانڈوی، مڑکامی دیوا، کوسا کواسی، آیت مرکام، بنجامی سینا، چیتو لیکام، جوگا مڑکامی اور مہادیو ناگا، کو فی الحال مرکزی جیل جگدل پور میں رکھا گیا ہے۔
بدھ کے روز استغاثہ کی جانب سے این آئی اے کے وکیل دنیش پانی گرہی نے مجرموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ پانی گرہی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جن سنگین دفعات کے تحت ملزمان کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے قصوروار قرار دیا ہے، ان میں عمر قید سے لے کر سزائے موت تک کی سزا کی گنجائش موجود ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے تمام ملزمان کو سزائے موت سنائی ہے۔
تاہم سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھی مجرموں کے پاس ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا راستہ موجود رہے گا۔ انہیں ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
25 مئی 2013 کو سکما سے واپس آنے والی کانگریس کی ’پریورتن یاترا‘ کو نکسل باغیوں نے دربھہ تھانہ علاقے کی جھیرم گھاٹی میں نشانہ بنایا تھا۔ گھات لگا کر کیے گئے اس حملے میں کانگریس کے سینئر رہنماو¿ں، کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 38 افراد زخمی ہوئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ