
ترواننت پورم، 15 ستمبر (ہ س)۔ ایشین گیمز 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں ملیشیاکے درمیانی اور طویل فاصلے کے دو ایتھلیٹس نے بھارتی اسپورٹس اتھارٹی (سائی) کے لکشمی بائی نیشنل کالج آف فزیکل ایجوکیشن، ترواننت پورم مرکز میں ایک ماہ تک تربیت حاصل کی۔ یہ تربیتی کیمپ 10 ستمبر کو اختتام پذیر ہوا۔
اس کیمپ میں ملیشیاکے 800 میٹر کے ایتھلیٹ وان محمد فجری اور 400 و 800 میٹر کے رنر عمر عثمان نے شرکت کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے ملیشیا ایتھلیٹکس کی جانب سے منعقدہ اس کیمپ میں چیف کوچ محمد ازرالدین کی نگرانی میں تربیت حاصل کی۔
یہ اقدام ان متعدد پروگراموں کا حصہ ہے جن کے تحت ایشین گیمز سے قبل بین الاقوامی کھلاڑی بھارت میں بھارتی اسپورٹس اتھارٹی کی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل نیپال کے باکسرز نے سائی کے گوہاٹی مرکز جبکہ ایران کے کبڈی کھلاڑیوں نے سائی سونی پت مرکز میں تربیت حاصل کی تھی۔
ان تربیتی کیمپوں کے ذریعے سائی کے بھارتی مراکز کی حیثیت بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے اعلیٰ کارکردگی کے تربیتی مراکز کے طور پر مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ آئندہ ایشین گیمز 19 ستمبر سے جاپان کے آئچی-ناگویا میں شروع ہوں گے۔
ترواننت پورم کے تربیتی کیمپ کے لیے ایتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا نے جولائی میں سائی ایل این سی پی ای سے ملیشیائی دستے کے قیام، خوراک اور تربیت کے انتظامات کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ تمام انتظامات بھارتی اسپورٹس اتھارٹی کے لیے بلا معاوضہ کیے گئے۔
بھارت کا تجربہ ملیشین کھلاڑیوں کے لیے اہم
ملیشیا کے ایتھلیٹکس کوچ محمد ازرالدین کے لیے بھارت میں تربیت کا انتخاب ایک فطری فیصلہ تھا۔ وہ خود سابق بھارتی ایتھلیٹ اور قومی ٹیم کے رکن رہ چکے ہیں اور ملیشیاایتھلیٹکس سے وابستہ ہونے سے قبل سائی بنگلورو سے منسلک تھے۔
ازرالدین نے سائی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”میں 2020 سے 2025 تک بھارتی قومی ٹیم کا حصہ رہا۔ اس کے بعد میں نے سائی بنگلورو سے استعفیٰ دیا اور ملیشیاایتھلیٹکس سے وابستہ ہو گیا۔ اس لیے بھارت آنا میرے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہاں کی سہولیات بہت اچھی ہیں اور میرے خیال میں ملیشیا ایتھلیٹکس کے لیے یہاں کا تجربہ حاصل کرنا ایک بہترین موقع ہے۔“
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو بھارت لانے کا بنیادی مقصد انہیں بہتر مسابقتی تربیتی ماحول سے روشناس کرانا اور بھارتی ایتھلیٹس کے ساتھ مل کر تربیت کا موقع فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا، ”سب سے پہلے تجربہ حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ جان سکیں کہ بھارتی ایتھلیٹس کا معیار کیا ہے۔ میرا بنیادی مقصد ملیشیا کے درمیانی اور طویل فاصلے کے ایتھلیٹس کو بھارت میں دستیاب سہولیات سے روشناس کرانا ہے۔ دوسرا مقصد بھارتی ایتھلیٹس کے ساتھ تربیت اور مشق کرنا ہے، جو ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔“
ازرالدین نے کہا کہ ایشین گیمز کی تیاری کے نقطہ نظر سے بھارت میں تربیت یورپی ماحول میں تیاری کرنے کے مقابلے میں زیادہ مفید ہے۔
انہوں نے کہا، ”ایشین گیمز ہمارے لیے اولین ترجیح ہیں۔ اسی لیے میں نے یورپی ممالک یا ایسے دوسرے ملکوں کا انتخاب نہیں کیا جہاں مقابلے یورپی معیار کے مطابق منعقد ہوتے ہیں۔“
بھارت میں مقابلے کا تجربہ بھی حاصل ہوا
بھارت میں تربیتی کیمپ کے دوران ملیشیا کھلاڑیوں کو مقابلے میں حصہ لینے کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے 22 اگست کو بھوبنیشور میں منعقدہ ورلڈ ایتھلیٹکس کانٹی نینٹل ٹور کے سلور لیول مقابلے میں حصہ لیا۔
ازرالدین نے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں کے ساتھ تربیت اور مقابلوں میں شرکت سے ملیشیا ایتھلیٹس کو اپنی ریس کی حکمتِ عملی اور سوچ میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایشین گیمز میں بھارت کی کارکردگی شاندار رہی تھی اور سائی بنگلورو میں تربیت حاصل کرنے والے ایتھلیٹس نے 16 تمغے جیتے تھے۔
انہوں نے کہا، ”ایشین گیمز سے قبل یہاں معیاری وقت گزارنا اور ان ایتھلیٹس کے ساتھ تربیت کرنا ملائیشین کھلاڑیوں کے لیے بہت اہم ہے۔ بھارت آ کر وہ یہاں کے ایتھلیٹس کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں، جس سے ان کی ریس کی حکمتِ عملی اور مقابلے کے دوران سوچنے کے انداز میں بہتری آتی ہے۔“
ترواننت پورم مرکز کو منفرد قرار دیا
ملیشیا کھلاڑیوں کو سائی ترواننت پورم کے تربیتی ماحول سے استفادہ کرنے کا موقع بھی ملا۔ ازرالدین نے اس مرکز کو منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی بھارتی اولمپین یہاں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”سائی ترواننت پورم واقعی ایک خاص مرکز ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ بھارت کی نمائندگی کرنے والے اولمپین اس مرکز میں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ یہی بات اسے منفرد بناتی ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک خوش قسمت تربیتی مرکز ہے۔“
ازرالدین کے مطابق اس کیمپ نے بھارت اور ملیشیاکے درمیان کھیلوں کے تعلقات مضبوط بنانے کا موقع بھی فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے ایتھلیٹکس شعبوں کے درمیان مشترکہ ثقافت اور تربیتی تجربات کھلاڑیوں کے لیے زندگی بھر کا سبق ہیں۔ ان کے مطابق ایسے تبادلہ پروگرام بھارت اور ملیشیا، دونوں کے کھلاڑیوں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی