
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو تعلیم یا دینی تعلیم دینے والے اداروں کی ریگولیشن کے مطالبے سے متعلق توہین عدالت کی عرضی پر اسکول ایجوکیشن سکریٹری کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتہ کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی کے سکریٹری ٹی کے انل کمار کو چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
عرضی بی جے پی رہنما اور وکیل اشونی اپادھیائے نے دائر کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی سابقہ ہدایت کے باوجود ان کی عرضداشت پر سکریٹری کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے اشونی اپادھیائے کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے مطالبے کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے روبرو عرضداشت پیش کریں۔ اس کے بعد انہوں نے مرکزی حکومت کے متعلقہ محکمے کے سامنے اپنا مطالبہ رکھا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس عرضداشت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عرضی میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے تمام اداروں کے لیے رجسٹریشن، منظوری، نگرانی اور معائنے کا باضابطہ نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ اس میں دستور کی دفعہ 21-اے کو دفعہ 39(ایف)، 45 اور 51-اے(کے) کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے یہ قدم اٹھانے کی مانگ کی گئی ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ آئین کی دفعہ 30 اقلیتوں کو ایسا کوئی خصوصی یا اضافی حق فراہم نہیں کرتی جو دفعہ 19(1)(جی) کے تحت شہریوں کو پہلے سے حاصل حقوق سے مختلف ہو۔ عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 30 دراصل دفعہ 19(1)(جی) کا ہی ایک مخصوص اعادہ ہے اور اس سے شہریوں کو دفعہ 19(1)(جی) کے تحت ملنے والے حقوق کے علاوہ کوئی اضافی حق، فائدہ یا مراعات حاصل نہیں ہوتیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن