وصولی کے معاملے میں ترنمول رکنِ پارلیمان کیرتی آزاد کو گرفتاری سے عبوری راحت، سی آئی ڈی کی تفتیش میں تعاون کی ہدایت
کولکاتا، 15 ستمبر (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے وصولی کے ایک معاملے میں ترنمول کانگریس کے لوک سبھا رکنِ پارلیمان اور سابق کرکٹر کیرتی آزاد کو عبوری راحت دیتے ہوئے فی الحال ان کی گرفتاری سمیت کسی بھی قسم کی تعزیری پولیس کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ تاہم ع
کیرتی


کولکاتا، 15 ستمبر (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے وصولی کے ایک معاملے میں ترنمول کانگریس کے لوک سبھا رکنِ پارلیمان اور سابق کرکٹر کیرتی آزاد کو عبوری راحت دیتے ہوئے فی الحال ان کی گرفتاری سمیت کسی بھی قسم کی تعزیری پولیس کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ تاہم عدالت نے انہیں مغربی بنگال پولیس کی کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کی ہدایت دی ہے۔

منگل کو جسٹس کوشک چند کی یک رکنی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر سی آئی ڈی پوچھ گچھ کے لیے کیرتی آزاد کو طلب کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے انہیں کم از کم سات دن پہلے نوٹس دینا ہوگا۔

سماعت کے دوران سی آئی ڈی نے عدالت کو بتایا کہ کیرتی آزاد کو 22 ستمبر کو جنوبی کولکاتا میں واقع بھوانی بھون میں ایجنسی کے صدر دفتر میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

الزام ہے کہ گزشتہ سال 21 مئی کو ایک تاجر کو درگاپور میں واقع کیرتی آزاد کے بنگلے پر بلایا گیا تھا۔ الزام کے مطابق آزاد کے ایک ساتھی نے تاجر سے 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاجر کا دعویٰ ہے کہ رقم ادا نہ کرنے پر اسے اپنا ایل پی جی گیس کا کاروبار بند کروا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے پاس پوری گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔

اس کے بعد کیرتی آزاد اور ان کے بعض ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ تاہم آزاد نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ بردوان-درگاپور لوک سبھا حلقے سے ترنمول کے رکنِ پارلیمان آزاد نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ واقعے کے روز وہ درگاپور میں موجود ہی نہیں تھے۔ اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے عدالت کے سامنے اپنی پرواز سے متعلق تفصیلات بھی پیش کیں۔

پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران آزاد کے وکیل نے ایف آئی آر درج کرنے میں ہونے والی تاخیر پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ واقعے کے تقریباً 15 ماہ بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ مبینہ وصولی کی رقم کیرتی آزاد کو ملنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد تفتیش میں تعاون کے لیے تیار ہیں اور ان کی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

کیرتی آزاد نے ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست بھی کلکتہ ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ گرفتاری سے دی گئی عبوری تحفظ کی یہ سہولت سی آئی ڈی کی تفتیش میں ان کے تعاون سے مشروط ہوگی۔ 22 ستمبر کو ہونے والی مجوزہ پوچھ گچھ وصولی کے الزامات سے متعلق جاری تفتیش کا حصہ ہے۔

کیرتی آزاد ترنمول کانگریس کے ان آٹھ لوک سبھا ارکان میں شامل ہیں جو پارٹی کی سابق مغربی بنگال وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اور قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے ساتھ بدستور وابستہ ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande