
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاوس عدالت نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران ایک احتجاجی کے والد پر حملہ کرکے انہیں زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار سوتنتر بھاردواج کو عبوری ضمانت دے دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج سوربھ پرتاپ سنگھ نے سوتنتر بھاردواج کو تین ہفتے کی عبوری ضمانت منظور کی ہے۔
عدالت نے 14 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سماعت کے دوران سوتنتر بھاردواج کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل امیش شرما نے کہا تھا کہ انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔
شرما نے کہا تھا کہ سوتنتر بھاردواج کو ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا، لیکن بعد میں ان کے خلاف پوکسو قانون کے تحت بھی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔
عدالت نے 7 ستمبر کو سوتنتر بھاردواج کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس سے قبل 6 ستمبر کو عدالت نے انہیں 7 ستمبر تک عدالتی حراست میں بھیجا تھا، جبکہ اس سے پہلے وہ ایک روزہ پولیس حراست میں تھے۔ سوتنتر بھاردواج کو 4 ستمبر کو اتر پردیش کے بلند شہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔
سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایک احتجاجی طالبہ کے والد کے سر پر حملہ کیا تھا۔ اس پوڈکاسٹ کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی اور بعض سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے سنسدمارگ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا تھا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب سوتنتر بھاردواج نے خود پوڈکاسٹ میں الزام کا اعتراف کیا ہے تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔ اس کے بعد سوتنتر بھاردواج کے خلاف پوکسو قانون اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی