
ربر میں ہندوستان کا غیر ملکی انحصار کم کرنے کے لیے شمال مشرق طاقتور بن کر ابھرا
۔ 5.22 لاکھ ٹن گھریلو کمی کو پورا کرنے کے لیے مہم تیز، شمال مشرق کا حصہ 15 سے بڑھ کر 45-40 فیصد ہونے کی امید
ڈاکٹر مینک چترویدی
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صنعتی معیشت کے درمیان قدرتی ربر کی گھریلو مانگ اور پیداوار کے درمیان پیدا ہونے والا بڑا فرق اب خود کفالت (آتم نربھرتا) کا نیا چیلنج بن چکا ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 14.27 لاکھ ٹن قدرتی ربر کی مانگ ہے، جبکہ پیداوار تقریباً 9.05 لاکھ ٹن ہے۔ یعنی تقریباً 5.22 لاکھ ٹن ربر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہندوستان کو درآمدات کا سہارا لینا پڑتا ہے، یعنی بیرونی ممالک پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ لیکن اس شعبے میں شمال مشرقی ہندوستان مضبوط بن کر سامنے آیا ہے۔
اس وقت ہندوستان آئیوری کوسٹ، ویتنام، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا سے قدرتی ربر درآمد کر رہا ہے۔ مصنوعی ربر کے معاملے میں جنوبی کوریا اور جاپان پر انحصار برقرار ہے۔ ایسی صورت میں اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ملک کا ربر پیداواری نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ شمال مشرقی ہندوستان اس تبدیلی کا نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ربر کی پیداوار بڑھانے کے لیے موجودہ پیداوار میں تقریباً 58 فیصد اضافے کی ضرورت ہے اور اسی ہدف کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نئے باغات، پروسیسنگ یونٹس، ریسرچ، ٹریننگ اور ربر پر مبنی صنعتوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔
’ان روڈ‘ نے سمت بدلی
دراصل اس مہم میں انڈین نیچرل ربر آپریشنز فار اسسٹڈ ڈیولپمنٹ (ان روڈ) پروجیکٹ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ربر بورڈ اور آٹوموٹیو ٹائر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے تعاون سے چلائے جانے والے اس پروجیکٹ کے تحت شمال مشرقی ہندوستان اور مغربی بنگال میں وسیع پیمانے پر نئے ربر کے باغات تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان روڈ منصوبے سے وابستہ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 15 جولائی 2026 تک 1.79 لاکھ ہیکٹر کے رقبے پر نئے ربر کے پودے لگائے جا چکے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ مقررہ 1.90 لاکھ ہیکٹر کے ہدف کا تقریباً 94 فیصد ہے۔ ان نئے باغات سے سالانہ تقریباً تین لاکھ ٹن قدرتی ربر کی پیداوار متوقع ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کی کل قدرتی ربر کی پیداوار میں شمال مشرق کا حصہ موجودہ تقریباً 15 فیصد سے بڑھ کر 45-40 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
تریپورہ سے آسام تک بڑھتی پیداوار
تریپورہ اس تبدیلی کی نمایاں مثال ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ریاست کی قدرتی ربر کی پیداوار 39,000 ٹن سے بڑھ کر 91,500 ٹن ہو چکی ہے۔ یہاں 1.10 لاکھ ہیکٹر سے زائد اراضی پر ربر کی کاشت ہو رہی ہے۔ آسام میں تقریباً 50,000 ہیکٹر اراضی پر ربر کے باغات لگائے جا چکے ہیں۔ ریاست کی پیداوار 13,600 ٹن سے بڑھ کر 46,500 ٹن ہو گئی ہے۔
1,550 کروڑ روپے کا صنعتی مرکز
تریپورہ کے سبروم میں مجوزہ تقریباً 1,550 کروڑ روپے کا خصوصی اقتصادی زون ربر پر مبنی صنعت، پروسیسنگ، تجارت اور مینوفیکچرنگ کو یکجا فروغ دینے کی سمت میں اہم پیش رفت ہے۔ اس سے تقریباً 12,000 ہنر مند ملازمتیں پیدا ہونے کی امید ہے۔ وہیں تریپورہ میں قائم بین الاقوامی ہیویا کلون میوزیم میں سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا، ویتنام اور آئیوری کوسٹ سے لائے گئے ربر کلونز کو محفوظ کیا گیا ہے۔
دراصل ان کا استعمال بیماریوں کے خلاف مدافعت رکھنے والی، زیادہ پیداوار دینے والی اور بدلتی آب و ہوا کے موافق ربر کی اقسام تیار کرنے میں کیا جا رہا ہے۔ آسام میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ربر کے پودوں اور زراعت کی نئی تکنیکوں پر بھی تجربات جاری ہیں۔ اس طرح آسام، کیرالہ کے بعد تریپورہ ملک کا تیسرا بڑا قدرتی ربر پیدا کرنے والا صوبہ بن چکا ہے۔
میگھالیہ میں بھی پیداوار 7,570 ٹن سے بڑھ کر 11,775 ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ شمال مشرق میں تقریباً 1.8 لاکھ ہیکٹر رقبے پر ربر کے باغات قائم ہو چکے ہیں۔ میگھالیہ میں 18.8 کروڑ روپے کی لاگت سے ریاست کا پہلا سینٹری فیوجڈ لیٹیکس یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ اس سے گارو ہلز کے 3,000 سے زائد کسانوں کو مقامی سطح پر پروسیسنگ کی سہولت میسر آئے گی۔
کاشت کاری سے صنعت تک روزگار کی توسیع
ان روڈ کے اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر یہ بھی واضح ہوا ہے کہ ربر کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت کے پیش نظر ناگالینڈ میں نیشنل ربر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا نوڈل سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ ریاست میں چار لاکھ ہیکٹر سے زائد اراضی ربر کی کاشت کے لیے موزوں تصور کی جاتی ہے، جب کہ فی الحال تقریباً 20,000 ہیکٹر اراضی پر کاشت کی جا سکی ہے۔ شمال مشرق کے تین نوڈل تربیتی مراکز کے ذریعے 712 تربیتی پروگراموں میں 10,700 سے زائد افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر ہے۔ کاشت کاری، پروسیسنگ، مصنوعات کی تیاری اور کوالٹی کنٹرول سے وابستہ ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔
عالمی منڈی کی تیاری
پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ربر کے معیار اور پائیدار پیداوار پر بھی ’انڈین نیچرل ربر آپریشنز فار اسسٹڈ ڈیولپمنٹ‘ کی خصوصی توجہ ہے۔ انڈین سسٹین ایبل نیچرل ربر (آئی ایس این آر) اقدام کے تحت عالمی پائیداری کے معیارات کے موافق ملکی نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس میں یورپی یونین کے جنگلات کی کٹائی سے متعلق ضوابط کے عین مطابق سرٹیفکیشن اور تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ربر کے منبع اور سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی بھی جاری ہے، تاکہ ربر بورڈ کی جانب سے جنوری 2025 میں شروع کی گئی یہ قومی پیش رفت ہندوستانی قدرتی ربر کی پیداوار کے لیے عالمی پائیداری کے معیار مرتب کرنے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی مسابقت کو مستحکم کرنے میں کامیاب رہے۔
ان کوششوں کے ساتھ ہی ہندوستانی ربر بورڈ کی ایک کاوش کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے کے حوالے سے بھی سامنے آئی ہے؛ یعنی ملک میں جہاں بھی ربر کے باغات ہیں، وہاں اگریکلچرل فاریسٹری کے ذریعے کافی، کالی مرچ اور ادویاتی پودوں کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سے پیداوار شروع ہونے تک کسانوں کو اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ رین گارڈ ٹیکنالوجی، اسمارٹ فارمنگ اور کاربن کریڈٹ کے ذریعے بھی آمدنی بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بدل رہا ہے ملک کا ربر کا نقشہ
قابلِ ذکر ہے کہ کیرالہ اور تمل ناڈو کا کنیا کماری خطہ طویل عرصے سے ہندوستان کے روایتی ربر پیداواری مراکز رہے ہیں۔ اب تریپورہ، آسام اور میگھالیہ نئے پیداواری مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ زمین کی دستیابی، سازگار موسم اور بڑے پیمانے پر شجر کاری کے امکانات شمال مشرق کو ربر کی پیداوار کی نئی بنیاد بنا رہے ہیں۔ فی الوقت ہندوستان دنیا میں ربر کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اصل چیلنج ملکی مانگ اور پیداوار کے مابین 5.22 لاکھ ٹن کی کمی کا ہے۔ ان روڈ کے تحت کی گئی شجر کاری آنے والے سالوں میں پیداوار میں بدلتی ہے، پروسیسنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور ربر پر مبنی صنعتیں شمال مشرق میں ترقی پاتی ہیں، تو درآمدات پر انحصار کم ہونا یقینی ہے۔ فی الوقت یہی نظر آ رہا ہے کہ ربر کے شعبے میں ہندوستان کی خود کفالت کی اگلی بڑی پیش رفت اب شمال مشرق کی سرزمین سے جنم لے رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن