
لکھنؤ/مہوبا، 15 ستمبر (ہ س)۔ ہمارے گاو¿ں میں پہلے خواتین کو پانی کے لیے تالابوں، کنوؤں اور ہینڈ پمپوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔اس میں کئی کئی گھنٹے صرف ہو جاتے تھے اور کافی محنت بھی لگتی تھی۔ کئی مرتبہ تو پانی بھرنے کو لے کر تنازعہ اور مارپیٹ تک کی نوبت آ جاتی تھی۔ اتنی محنت کے باوجود صاف پانی ملنا کسی خواب سے کم نہیں تھا اور بچے، بزرگ بیماریوں میں گھرے رہتے تھے۔ لیکن اب جل جیون مشن کی ’ہر گھر نل‘ اسکیم نے پانی کی یہ مشکل ہمیشہ کے لیے دور کر دی ہے۔ اب کافی وقت بچتا ہے اور صاف پینے کا پانی مل رہا ہے۔ یہ کہنا ہے مہوبا ضلع کے چرکھاری ترقیاتی بلاک کی گرام پنچایت کمل کھیڑا (شیوہر) کے پردھان راجو کا۔
گرام پردھان راجو نے بتایا کہ چرکھاری بلاک میں پینے کے پانی کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ خواتین کو پانی کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا تھا، یہ ہم سے پوچھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست اور مرکز میں بی جے پی حکومتوں کے ذریعہ جل جین مشن کے نفاذ کو لے کر کی جا رہی کوششوں سے اب ہمارے گاؤں اور بلاک میں پانی کا مسئلہ پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔ اب صبح و شام باقاعدگی سے پانی آتا ہے اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے۔ سب سے زیادہ خوش خواتین ہیں، کیونکہ انہیں ایک گھڑا پانی بھرنے کے لیے گھنٹوں میلوں پیدل چلنا پڑتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ خوشی صرف کمل کھیڑا (شیوہر) کے گرام پردھان راجو کی نہیں بلکہ گرام پنچایت کے ہر شخص کی یہی رائے ہے۔ جل جیون مشن نے بندیل کھنڈ میں دہائیوں پرانے پانی کے مسئلے کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ مہوبا، چترکوٹ، جھانسی، باندہ اور ہمیرپور جیسے اضلاع میں لاکھوں گھروں تک پائپ لائن کے ذریعے صاف پانی پہنچایا گیا ہے۔ اب خواتین کو دور سے پانی لانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور بچوں کو بیماریوں سے تحفظ ملا ہے۔ جل جیون مشن اس علاقے کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوا ہے، جس سے لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے۔
بندیل کھنڈ میں کبھی سر پر گھڑا رکھ کر دور دراز علاقوں سے پانی لاتی ہوئی خواتین کی تصویر ہی یہاں کے بیشتر اضلاع کی پہچان بن گئی تھی۔ مہوبا کے لوگوں نے پانی کی قلت کے باعث طویل عرصے تک انتہائی مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔ کبھی یہاں واٹر ٹرین کے ذریعے پانی پہنچانے کی نوبت بھی آ گئی تھی۔ لوگ ایک گھڑا پانی بھرنے کے لیے نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتے تھے۔ لیکن اب یہ سب ماضی کی باتیں ہیں۔ اب سڑکوں پر دور سے نظر آنے والی پانی کی ٹنکیاں امید کی علامت بن گئی ہیں۔
مہوبا ضلع کے چرکھاری بلاک کی گرام پنچایت کمل کھیڑا کے پردھان راجو اس اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم یوگی-مودی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری گرام پنچایت کو بیماریوں سے بچانے کا انتظام کیا۔ ہمارے گاو¿ں کے بچے اب نہا دھو کر اسکول جاتے ہیں۔ بچوں اور ماو¿ں میں صفائی ستھرائی کا احساس خود بخود پیدا ہونے لگا ہے۔
پورے اتر پردیش میں بھی نمایاں پیش رفت
بات صرف بندیل کھنڈ کی نہیں بلکہ پورے اتر پردیش میں جل جیون مشن کے تحت دیہی علاقوں میں پانی کے کنکشن فراہم کرنے کے معاملے میں غیر معمولی کام ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اتر پردیش کے 14,79,20,976 دیہی باشندے صاف پینے کے پانی سے براہ راست مستفید ہو رہے ہیں۔ یوگی حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے، یعنی 2019 سے قبل، نل کنکشن کی اوسط شرح 1.97 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 92.27 فیصد ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں نل کنکشن فراہم کرنے کے معاملے میں اتر پردیش ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔
80 فیصد منصوبے شمسی توانائی پر مبنی
اتر پردیش میں جل جیون مشن کے تحت چلنے والے مختلف منصوبوں کی خاص بات یہ ہے کہ اب تک شروع کیے گئے منصوبوں میں سے 80 فیصد شمسی توانائی پر مبنی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 33,157 منصوبوں میں شمسی توانائی کا استعمال ہو رہا ہے اور روزانہ 900 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہو رہی ہے بلکہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے۔ توانائی کے تحفظ کی سمت میں اسے یوگی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔
صاف پانی کی ضمانت، گھر بیٹھے ہو رہی پانی کی جانچ
جل جیون مشن میں یوگی حکومت کی ترجیح ہر گھر تک پانی پہنچانے کے ساتھ ساتھ پانی کے معیار کو یقینی بنانا بھی ہے، تاکہ لوگوں کی صحت پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔ اسی مقصد سے ریاست میں اب تک 4,80,000 سے زائد خواتین کو پانی کی جانچ کی تربیت دی جا چکی ہے۔ یہ خواتین نہ صرف اپنے گھروں میں سپلائی ہونے والے پانی کے معیار کی جانچ کر سکتی ہیں بلکہ گرام پنچایت میں بھی پانی کے معیار کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔پانی کیصفائی جانچنے کا یہ طریقہ انتہائی منفرد ہے اور اس کے ذریعے کم وقت میں فوری نتائج حاصل کیے جا رہے ہیں۔
جل جیون مشن سے ہنرمندی کا فروغ اور روزگار کے مواقع
ریاست بھر کے گاؤں گاؤں میں ہر گھر نل کنکشن فراہم کرنے کی اس مہم سے روزگار کے مواقع بھی بڑھے ہیں۔ مشن کے تحت مختلف کاموں کے لیے ہزاروں ہنرمند اور غیر ہنرمند کارکنوں کی ضرورت بڑھی، جبکہ مشن نے اپنی سطح پر تربیت فراہم کرکے ان کے لیے روزگار کے راستے آسان کیے ہیں۔
نل کنکشن دینے اور پائپ لائن کی مرمت کا کام انجام دینے کے لیے گاؤں کے نوجوانوں کو بھی تربیت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ ساتھ گاؤں میں پلمبنگ سے متعلق کام بھی فوری طور پر انجام دیے جا سکیں۔
اس مقصد کے لیے ریاست بھر میں 1,16,037 نوجوانوں کو پلمبنگ کی تربیت دی جا چکی ہے۔ اسی طرح 1,66,667 الیکٹریشن، 1,15,505 موٹر میکنک، 1,16,007 فٹر، 1,75,880 راج مستری اور 1,16,007 پمپ آپریٹرز کو بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ تربیت کے بعد یہ تمام افراد ہنرمند کاریگروں کے طور پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
سڑکوں کی مرمت کا کام بھی تیزی سے جاری
گاؤں میں ہر گھر تک پانی کا کنکشن پہنچانے کے دوران سڑکوں کی کٹائی کی گئی تھی۔ تاہم ایک خصوصی مہم کے تحت ریاست کے 63,546 گاؤں میں سڑکوں کی بحالی (روڈ ریسٹوریشن) کا کام 100 فیصد مکمل کیا جا چکا ہے۔ باقی گاؤں میں بھی تیزی سے کام مکمل کیا جا رہا ہے۔گرام پردھانوں کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ بحالی کے کام کے معیار کی نگرانی کریں اور کسی قسم کی کمی پائے جانے پر اپنی شکایت یا تجویز متعلقہ منصوبے کے عملے تک پہنچائیں۔
جل جیون مشن سے وابستہ افسران کے مطابق ریاست کے دیہی علاقوں میں اب تک 29,080 سولر پلانٹ لگائے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں 5,22,198 کلومیٹر پانی کی پائپ لائن بچھائی جا چکی ہے اور مجموعی طور پر 37,792 پمپ ہاؤس تعمیر کیے جا چکے ہیں۔
اسی کے ساتھ دیہی علاقوں میں جل جیون مشن کے تحت 21,451 اوور ہیڈ ٹینک لگائے جا چکے ہیں، جبکہ 17,513 اوور ہیڈ ٹینک زیر تعمیر ہیں۔ اتر پردیش کے 28 ہزار سے زائد گاؤں ’ہر گھر جل‘ کے طور پر تصدیق شدہ ہو چکے ہیں۔
بندیل کھنڈ میں نل کنکشن
مہوبا — 1,39,904
جھانسی — 2,49,190
للت پور — 2,05,966
چترکوٹ — 1,63,698
باندا — 2,68,722
ہمیرپور — 1,85,693
بندیل کھنڈ میں جل جیون مشن کا اثر صرف نلوں اور پائپ لائنوں تک محدود نہیں ہے۔ پانی گھر تک پہنچنے سے خواتین کا وقت بچ رہا ہے، بچوں کے معمولات میں تبدیلی آئی ہے اور دیہی خاندانوں میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے بیداری بڑھی ہے۔
تاہم، ان منصوبوں کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے برسوں میں پانی کی فراہمی باقاعدگی سے جاری رہے، پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی ہوتی رہے اور تیار کیے گئے بنیادی ڈھانچے کی مؤثر دیکھ بھال کی جاتی رہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد