گاندھی نگر میں عالمی مدورمعاشی فورم کا بھوپیندر یادو نے افتتاح کیا
گاندھی نگر، 15 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو اور گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے منگل کو گاندھی نگر میں عالمی مدورمعاشی فورم (ڈبلیو سی ای ایف) کا افتتاح کیا۔ 15 سے 18 ستمبر تک جاری رہنے والے اس
مدورمعیشت


گاندھی نگر، 15 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو اور گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے منگل کو گاندھی نگر میں عالمی مدورمعاشی فورم (ڈبلیو سی ای ایف) کا افتتاح کیا۔ 15 سے 18 ستمبر تک جاری رہنے والے اس فورم میں 62 ممالک کے 3,600 سے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

وزارتِ ماحولیات کے مطابق ’عوام اور خوش حالی کے لیے عالمی مدورمعیشت کی جانب منتقلی‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں تجارت، صنعت، تحقیق، تعلیم اور پالیسی سازی سے وابستہ ماہرین شریک ہیں۔ مقامِ انعقاد پر 135 قومی و بین الاقوامی اداروں کی نمائش بھی لگائی گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پہلی مرتبہ اس فورم کا انعقاد بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کے تحفظ اور ترقی کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے بھارت طویل عرصے سے اشیا کے دوبارہ استعمال اور کچرے کو وسائل میں تبدیل کرنے کی روایت پر عمل کرتا رہا ہے۔ کانفرنس کو ’وسودھیو کٹمبکم‘ کے جذبے کے مطابق عملی حل تیار کرنے چاہییں۔

بھوپیندر یادو نے کہا کہ بھارت کے لیے عالمی مدورمعیشت کوئی نیا تصور نہیں، بلکہ یہ روایتی طرزِ زندگی کا حصہ رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی چیز کو تبدیل کرنے سے پہلے اس کی مرمت، پھینکنے سے پہلے دوبارہ استعمال اور کچرے میں تبدیل ہونے سے پہلے اس سے مفید چیز حاصل کرنے کی سوچ بھارتی معاشرے میں طویل عرصے سے موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی اور ماحول کے تحفظ کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ وسائل کے بہتر استعمال کے ذریعے دونوں مقاصد کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

یادو نے بتایا کہ توسیعی ذمہ داریِ پیداوار (ای پی آر) سمیت مختلف اصلاحات کے ذریعے بھارت مدورمعیشت کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اگست 2026 تک مختلف ای پی آر نظام کے تحت 83 ہزار سے زائد پروڈیوسرز اور 4,802 ری سائیکلنگ یونٹس رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ 482.24 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کچرے کو پروسیس کیا جا چکا ہے۔

پروگرام کے دوران ’صاف کیے گئے سیوریج کے دوبارہ استعمال کے بہترین طریقے‘ اور ’بھارت کی مدورمعیشت اور ای پی آر اقدامات‘ کے عنوان سے دو اشاعتوں کا اجرا بھی کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande