کولکاتا کی بعض سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز
کولکاتا، 14 ستمبر (ہ س)۔ کولکاتا میں سڑکوں کے نام رکھنے کی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ سابق گورنر تتھاگت رائے جلد ہی لینن سرنی سمیت شہر کی بعض دیگر سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرنے والے ہیں۔ ان کے مطابق لینن سرنی کا ن
Kolkata-road-new-name-changed


کولکاتا، 14 ستمبر (ہ س)۔ کولکاتا میں سڑکوں کے نام رکھنے کی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ سابق گورنر تتھاگت رائے جلد ہی لینن سرنی سمیت شہر کی بعض دیگر سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرنے والے ہیں۔ ان کے مطابق لینن سرنی کا نام بدل کر بھارتیہ جن سنگھ کے سابق قومی صدر دیوپرساد گھوش کے نام پر رکھا جا سکتا ہے۔

بائیں بازو کی حکومت کے دور میں کارل مارکس، ولادیمیر لینن اور ہو چی منہ کی یاد میں کولکاتا کی تین سڑکوں کے نام رکھے گئے تھے۔ اب ان ناموں کو تبدیل کرنے کی کوشش شروع کیے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے۔

تتھاگت رائے نے بتایا کہ لینن سرنی کے علاوہ کولکاتا کی کچھ دیگر سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی کمیٹی کے سامنے رکھی جائے گی۔ لینن سرنی کا نام بدل کر دیوپرساد گھوش سرنی کیے جانے کی تجویز ہے۔ شیاما پرساد مکھرجی کے بعد دیوپرساد گھوش بھارتیہ جن سنگھ کے قومی صدر بنے تھے۔

اسی طرح کارل مارکس سرنی کا نام رنگ لال بندیوپادھیائے یا مائیکل مدھوسودن دت کے نام پر رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہو چی منہ سرنی کا نام تبدیل کرکے مارٹن لوتھر کنگ کے نام پر رکھنے کی تجویز بھی سامنے آ سکتی ہے۔

گوپال مکھرجی روڈ کے نام کو لے کر پیدا ہوئے تنازعہ کے دوران وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے واضح طور پر کہا تھا کہ کولکاتا میں کسی مغل، پٹھان یا ظالم برطانوی حکمراں کے نام پر نام نہیں رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بھگنی نویدیتا کو چھوڑ کر کسی غیر ملکی شخصیت کے نام پر سڑک کا نام نہیں رکھا جائے گا۔ تاہم اے پی جے عبدالکلام جیسے حقیقی محب وطن کے نام کی تجویز ملنے پر حکومت انہیں اعزاز دے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست کی مختلف سڑکوں، پلوں اور ایونیو کے نئے نام رکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین کارتک مہاراج ہیں، جبکہ بی جے پی رہنما تتھاگت رائے بھی اس کے رکن ہیں۔ اب کمیٹی کے سامنے ان سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز پیش کیے جانے کے بعد کولکاتا کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہونے کا امکان ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande