قومی شاہراہوں پر مدد کے لیے 1033 ہیلپ لائن کو جدید ترین بنایا جائے گا
نئی دہلی، 14 ستمبر (ہ س)۔ بھارت کی قومی شاہراہ سے متعلق اتھارٹی (این ایچ اے آئی) قومی شاہراہوں پر مسافروں کو بہتر اور فوری امداد فراہم کرنے کے لیے 1033 ہیلپ لائن کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے جا رہی ہے۔ جدید نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ریئل
NHAI-1033-HELPLINE-UPGRADE


نئی دہلی، 14 ستمبر (ہ س)۔ بھارت کی قومی شاہراہ سے متعلق اتھارٹی (این ایچ اے آئی) قومی شاہراہوں پر مسافروں کو بہتر اور فوری امداد فراہم کرنے کے لیے 1033 ہیلپ لائن کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے جا رہی ہے۔ جدید نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ریئل ٹائم لوکیشن ٹریکنگ اور اسمارٹ ایمرجنسی رسپانس جیسی سہولیات شامل کی جائیں گی۔

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے پیر کو بتایا کہ نئے نظام کے تحت ہیلپ لائن پر کال کرنے والے کی لوکیشن کی شناخت کی جا سکے گی، مختلف ہندوستانی زبانوں میں بات چیت کو سمجھا جا سکے گا اور ضرورت کے مطابق فوری امداد فراہم کی جائے گی۔ تاہم ہنگامی حالات میں انسانی آپریٹر کا کردار پہلے کی طرح برقرار رہے گا۔

وزارت کے مطابق، 1033 ہیلپ لائن 2018 سے کام کر رہی ہے اور چوبیس گھنٹے دستیاب رہتی ہے۔ اس کے ذریعے طبی ہنگامی حالات، گاڑی خراب ہونے، ایمبولینس، کرین اورگشتیگاڑی کی مدد، ٹول پلازا اور فاسٹ ٹیگ سے متعلق شکایات سمیت قومی شاہراہوں پر مسافروں کے مختلف مسائل کا حل کیا جاتا ہے۔ فی الحال یہ ہیلپ لائن 1.46 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ طویل قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کا احاطہ کرتی ہے اور روزانہ تقریباً 15 ہزار کال موصول ہوتی ہیں۔

نئے نظام میں امداد پہنچانے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کال کرنے والے کی لوکیشن کی خودکار شناخت، مختلف ہندوستانی زبانوں میں اے آئی پر مبنی معاونت، ضرورت کے مطابق ایمبولینس یا دیگر وسائل کی فوری تعیناتی، مسافروں کو بروقت الرٹ اور ہنگامی خدمات کے درمیان بہتر تال میل جیسی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔

این ایچ اے آئی کی ذیلی کمپنی انڈین ہائی وے مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ (آئی ایچ ایم سی ایل) نے اگلے سلسلے کی 1033 ہیلپ لائن اور کال سینٹر کی ترقی، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے درخواستیں طلب کی ہیں۔ اس کے لیے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل پلیٹ فارم، چوبیس گھنٹے کال سینٹر چلانے اور ہنگامی خدمات فراہم کرنے کا تجربہ رکھنے والی کمپنیوں کو مدعو کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande