نو سال سات ماہ بعد گھر لوٹا سابق ماؤ نواز کانہو منڈا، بندوق چھوڑ کر جمہوریت کی راہ اپنانے کی اپیل
مشرقی سنگھ بھوم، 12 ستمبر (ہ س):۔ تقریباً نو سال سات ماہ بعد سابق سی پی آئی (ماؤ نواز) زونل سکریٹری کانہو منڈا ہفتہ کو جیل سے رہا ہوکر اپنے آبائی گاؤں گڑاباندا بلاک کے جیان واقع بن گوڑہ ٹولہ پہنچا۔ طویل عرصے بعد گھر پہنچنے پر اس کی اہلیہ ویشاکھ
نو سال سات ماہ بعد گھر لوٹا سابق ماو¿ نواز کانہو منڈا، بندوق چھوڑ کر جمہوریت کی راہ اپنانے کی اپیل


مشرقی سنگھ بھوم، 12 ستمبر (ہ س):۔

تقریباً نو سال سات ماہ بعد سابق سی پی آئی (ماؤ نواز) زونل سکریٹری کانہو منڈا ہفتہ کو جیل سے رہا ہوکر اپنے آبائی گاؤں گڑاباندا بلاک کے جیان واقع بن گوڑہ ٹولہ پہنچا۔ طویل عرصے بعد گھر پہنچنے پر اس کی اہلیہ ویشاکھی منڈا، بچوں اور والدین نے جذباتی انداز میں اس کا استقبال کیا۔ پولیس بھی گڑاباندا تھانہ انچارج سمیت سکیورٹی کے ساتھ اسے بحفاظت گھر تک لے گئی۔گھر پہنچنے پر اہل خانہ نے روایتی انداز میں اس کا ا ستقبال کیا۔ایک طرف خاندان کے لئے یہ لمبے انتظار کے ختم ہونے کا دن تھا، تو دوسری جانب کانہو منڈا کے لئے یہ اس کی زندگی میں لوٹنے کا موقع تھا جس سے وہ برسوں پہلے دور ہو گیا تھا۔

2017 میں ہتھیاروں کے ساتھ خودسپردگی

کانہو منڈا نے 15 فروری 2017 کو اپنے سات ساتھیوں اور ہتھیاروں کے ساتھ اُس وقت کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ انوپ ٹی میتھیو کے سامنے خودسپردگی کی تھی، جس کے بعد اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ اس نے گھاٹ شیلا، گھاگھی ڈیھہ (جمشیدپور)، ہزاری باغ مرکزی جیل اور مغربی بنگال کی پرولیا جیل میں طویل عرصہ گزارا۔

پرولیا عدالت میں اس کے خلاف چل رہے آخری مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے ضمانت مل گئی اور اس کی رہائی ممکن ہوئی۔ کانہو کے مطابق اس کے خلاف مختلف تھانوں میں 35 مقدمات سمیت متعدد کیس درج تھے۔ پولیس کی دوبارہ تفتیش کے بعد کچھ مقدمات میں اس کا نام ہٹا دیا گیا، جبکہ بیشتر مقدمات میں ثبوت نہ ملنے پر اسے بری کر دیا گیا۔ فی الحال دو مقدمات میں اسے ضمانت ملی ہے، جن میں موسابنی میں شہری تحفظ کمیٹی کے صدر دھنائی کسکو کے قتل کا مقدمہ اور پرولیا کا ایک معاملہ شامل ہے۔

بندوق کے بجائے جمہوریت پر یقین

کئی برس بعد گاو¿ں واپس آنے والے کانہو کے خیالات میں بھی تبدیلی نظر آئی۔ کبھی ماؤ نواز تنظیم سے وابستہ رہنے والے کانہو نے کہا کہ اب وقت بدل چکا ہے اور سماج و علاقے میں تبدیلی بندوق یا تشدد کے ذریعے نہیں بلکہ جمہوری نظام اور ووٹنگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس نے نوجوانوں سے بھی تشدد کا راستہ چھوڑ کر جمہوریت پر اعتماد کرنے اور اسی کے ذریعے اپنے مستقبل اور سماج کی ترقی میں حصہ لینے کی اپیل کی۔

خاندان نے برسوں انتظار کیا

کانہو کے خاندان نے اس کی طویل غیر موجودگی کے باوجود اپنی زندگی آگے بڑھائی۔ اس کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ بڑی بیٹی چنئی میں ٹیچر ہے، جبکہ چھوٹی بیٹی اور بیٹا گریجویشن مکمل کرکے مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔

تقریباً ایک دہائی جیل میں گزارنے کے بعد کانہو اب خاندان کے ساتھ معمول کی زندگی دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ جیان کے بن گوڑہ ٹولہ میں اس کی واپسی کسی سیاسی یا تنظیمی پروگرام کے طور پر نہیں بلکہ ایک خاندان کے اپنے بچھڑے ہوئے فرد کی واپسی کے طور پر ہوئی۔

کبھی تنظیم اور ہتھیاروں کی دنیا سے وابستہ کانہو کی زبان سے اب جمہوریت اور ووٹ کی بات اس کی زندگی میں آنے والی بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ نو سال سات ماہ بعد گھر لوٹنے کے بعد اب اس کے سامنے ماضی سے الگ خاندان کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنے اور جمہوری نظام میں اپنا کردار تلاش کرنے کی نئی راہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande