
بانکوڑہ کی بھارتی موڑی بیٹیوں کو فٹ بال کے میدان تک پہنچانے کی مہم چلا رہی ہیں
کولکاتا، 11 ستمبر (ہ س)۔ ایک دن اخبار میں شائع ہونے والی فٹ بال مقابلے کی ایک چھوٹی سی خبر نے ایک بچی کے ذہن میں سوال پیدا کیا۔ بچی نے اپنی ماں سے پوچھا: ’’ماں! کیا لڑکیاں بھی فٹ بال کھیلتی ہیں؟‘‘ ماں نے اس سوال کو محض جواب دے کر ختم نہیں کیا، بلکہ اسے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ بھارتی نے اسی جنون کو 17 برسوں سے سنبھال رکھا ہے اور گاوں کی بیٹیوں کو فٹ بال کے میدان تک پہنچانے کی اپنی مہم آج بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔
یہ کہانی ضلع بانکوڑہ کے ڈومرومی گاوں کی بھارتی موڑی کی ہے۔ سال 2009 میں بیٹی تانیہ موڑی کے سوال سے شروع ہونے والا ان کا فٹ بال سے لگاو آج گاوں اور آس پاس کی درجنوں بچیوں کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے۔ بھارتی گزشتہ تقریباً 17 برسوں سے لڑکیوں کو بغیر کسی فیس کے فٹ بال کی تربیت دے رہی ہیں۔ بھارتی موڑی نے بتایا کہ سال 2009 میں ان کی بیٹی تانیہ نے اخبار میں پڑھا تھا کہ کسی لڑکی کو فٹ بال مقابلے میں انعام ملا ہے۔ خبر پڑھنے کے بعد تانیہ نے اپنی ماں سے کہا کہ ماں دیکھو، لڑکیاں بھی فٹ بال کھیلتی ہیں۔ بیٹی کی بات بھارتی کے دل میں ایسی بیٹھی کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ان کے گاوں کی لڑکیاں بھی فٹ بال کھیلیں گی۔
انہوں نے بیٹی سے کہا کہ فٹ بال ٹیم بنانے کے لیے کم از کم 10 لڑکیوں کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بعد بھارتی آس پاس کے گاوں اور محلوں میں گئیں۔ انہوں نے بچیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے بات چیت کی اور لڑکیوں کو فٹ بال کھیلنے کی ترغیب دینا شروع کی۔ شروعات آسان نہیں تھی۔ دیہی علاقے میں لڑکیوں کے لیے کھیل کی سہولیات محدود تھیں۔ فٹ بال کے حوالے سے بھی گھرانوں میں وہ ماحول نہیں تھا جو شہروں میں دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن بھارتی پیچھے نہیں ہٹیں۔ رفتہ رفتہ چند بچیاں ان کے ساتھ جڑیں اور میدان میں تربیت کا آغاز ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعداد بڑھتی گئی اور بھارتی کی یہ کوشش ایک مستقل مہم کی شکل اختیار کر گئی۔
سب سے خاص بات یہ رہی کہ بھارتی نے اس تربیت کے لیے کبھی بچیوں سے فیس نہیں لی۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنی سطح پر لڑکیوں کو فٹ بال کی بنیادی تکنیک، کھیل کی سوجھ بوجھ اور میدان میں نظم و ضبط سکھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بھارتی کے لیے فٹ بال محض ایک کھیل نہیں ہے، ان کے نزدیک یہ گاوں کی بیٹیوں کو خود اعتمادی عطا کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ دیہی علاقے کی لڑکیاں بھی میدان میں اتریں، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں اور اپنے لیے ایک نئی پہچان بنائیں۔
آج جہاں بڑے شہروں میں کھلاڑیوں کے لیے جدید اکیڈمیاں، کوچز اور تمام تر سہولیات میسر ہیں، وہیں ڈومرومی جیسے دیہی علاقے میں بھارتی کی یہ کوشش بالکل منفرد اور نمایاں نظر آتی ہے۔ نہ کوئی بڑی اکیڈمی، نہ تربیت کے نام پر فیس اور نہ ہی کسی بڑے ادارے کا سہارا؛ اس کے باوجود انہوں نے تقریباً 17 برسوں تک بچیوں کو فٹ بال سے جوڑے رکھا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ان کی ویڈیوز نے بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ ان ویڈیوز میں بھارتی کو ساڑی پہن کر میدان میں بچیوں کو فٹ بال کی مشق کراتے دیکھا جا سکتا ہے۔ میدان ان کے لیے محض کھیل کی جگہ نہیں، بلکہ ان بیٹیوں کے خوابوں کی بستی ہے جنہیں وہ برسوں سے آگے بڑھانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
اخبار میں فٹ بال کھیلتی لڑکی کی تصویر اور بیٹی کے معصومانہ سوال کا جواب بھارتی موڑی نے الفاظ سے نہیں، بلکہ میدان میں بچیوں کو اتار کر دیا۔ ڈومرومی کی بھارتی موڑی کی داستان اس بات کی روشن مثال ہے کہ تبدیلی لانے کے لیے ہمیشہ بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بسا اوقات ایک ماں کا پختہ عزم، بیٹی کا ایک سوال اور گاوں کی چند بچیوں کا جنون بھی ایک لازوال داستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن