کاروبار ی رکاوٹوں میں اضافے کے دور میں بھارت اقتصادی پل کی تعمیرکر رہا ہے: وزیر اعظم
نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ دنیا میں تجارتی رکاوٹوں میں اضافے کے درمیان بھارت اقتصادی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے
کاروبار ی رکاوٹوں میں اضافے کے دور میں بھارت اقتصادی پل بنا رہا ہے: وزیر اعظم


نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ دنیا میں تجارتی رکاوٹوں میں اضافے کے درمیان بھارت اقتصادی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے رہیں اور ملاح محفوظ ہوں۔ بھارت جہاز رانی کی آزادی اور ملاحوں کی سلامتی کا مضبوط حامی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی برکس صدارت کا موضوع ’لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر‘ ہے۔ بھارت نے توانائی سے لے کر ٹیکنالوجی تک سپلائی چین کو زیادہ متنوع اور قابلِ اعتماد بنایا ہے۔ سڑک، ریل، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ جہاز سازی، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں نئی صلاحیتیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے برکس بزنس کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ 10 بڑی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے رپورٹ تیار کرے، ہر سال 100 برکس اسٹارٹ اپس کو دیگر برکس مارکیٹوں میں توسیع میں مدد دے اور کاروباری اداروں کے درمیان 1,000 نئی شراکت داریاں قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کا ہر سال جائزہ لیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 کے بعد بھارت نے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ برکس میں بھی بھارت کا نقطہ نظر تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور کاروباری مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ بھارت کی صدارت میں زراعت، صحت، ہنرمندی اور اسمارٹ گرڈ جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے نیٹ ورک قائم کیے گئے ہیں۔ اسٹارٹ اپس اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مارکیٹ اور مالی وسائل سے جوڑنے کے لیے برکس انکیوبیٹر نیٹ ورک، برکس ایم ایس ایم ای پورٹل اور برکس اسٹارٹ اپ انوویشن فنڈ جیسی پہل کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا، ”آج دنیا میں ہونے والی حقیقی وقت کی 50 فیصد ادائیگیاں اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوتی ہیں۔ اس ڈیجیٹل نظام پر نئے حل تیار کرنے کے لیے ہم نے صنعت اور اسٹارٹ اپس کو ایک کھلا نظام فراہم کیا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ بھارت کے اس عالمی معیار کے نظام کو کئی ممالک اپنا رہے ہیں۔ برکس ممالک کے جدت پسند بھی اس تجربے کی بنیاد پر اپنے ممالک کے لیے نئے حل تیار کر سکتے ہیں۔“

برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 2006 میں چار ممالک سے شروع ہونے والا برکس آج رکن اور شراکت دار ممالک کو ملا کر 21 ممالک کا خاندان بن چکا ہے۔ برکس ممالک دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی، 40 فیصد مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) اور 25 فیصد سے زیادہ تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں جہاں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار تقریباً ڈھائی گنا بڑھی ہے، وہیں برکس ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً ساڑھے چار گنا بڑھی ہے۔

انہوں نے کہا، ”برکس ویمن بزنس الائنس بھی ہمارے وژن کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کاروباری شخصیات ہماری ترقی کے سفر کی قیادت کریں۔ ہمیں خوشی ہے کہ بھارت میں منعقد ہونے والے اس اتحاد کے اجلاس میں تقریباً 200 خواتین کاروباری رہنماو¿ں نے شرکت کی۔“

انہوں نے کہا کہ بھارت میں دو لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپس اور 120 سے زیادہ یونی کارنز ہیں۔ بھارتی اسٹارٹ اپس مصنوعی ذہانت، تعلیم، صحت، گرین ہائیڈروجن، بیٹری، دفاع اور خلائی شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ بھارت کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ریئل ٹائم میں ہونے والی 50 فیصد ادائیگیاں اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور اس کی صدارت کی ترجیحات میں اقتصادی تعاون، جدت، تجارت اور عالمی سطح پر اجتماعی حل کو فروغ دینا شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande