برکس نے جی-7 کو پیچھے چھوڑ ا، عالمی اقتصادی ترقی میں بھی حصہ داری میں اضافہ: پوتن
نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے برکس اور جی-7 کی اقتصادی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دنیا کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ رہا، جبکہ جی-7 کا ح
برکس نے جی-7 کو پیچھے چھوڑ ا، عالمی اقتصادی ترقی میں بھی حصہ داری میں اضافہ: پوتن


نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے برکس اور جی-7 کی اقتصادی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دنیا کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ رہا، جبکہ جی-7 کا حصہ 29 فیصد تھا۔ اسی عرصے میں عالمی اقتصادی ترقی میں برکس ممالک کا حصہ نصف سے زیادہ رہا۔

برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ بین الاقوامی مسابقت کئی مرتبہ پابندیوں، نقل و حمل کے راستوں میں رکاوٹ اور دیگر دباو¿ کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اس کے باوجود برکس ممالک کے درمیان کاروباری تعاون اور سرمایہ کاری عالمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط اور لچکدار بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اقتصادی ترقی کے پرانے مراکز کی جگہ نئے ترقیاتی مراکز لے رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ برکس ممالک کی بڑی آبادی اور ان کی متحرک داخلی منڈیاں ہیں۔

پوتن نے کہا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یہ دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد پابندیوں کی مجموعی تعداد سے تقریباً دوگنی ہیں۔ اس کے باوجود روس نے اپنی قومی خودمختاری کو مضبوط کیا اور قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں اضافہ کیا۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران روس کی اقتصادی ترقی عالمی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔

روسی صدر کے مطابق 2023-24 میں روس کی معیشت میں 10.3 فیصد کی ترقی ہوئی اور بے روزگاری کی شرح کم ہو کر ریکارڈ 2.3 فیصد رہ گئی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور جدید مالیاتی ذرائع جیسے شعبوں میں ہونے والی تکنیکی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان شعبوں میں روسی مقامی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ برکس کے شراکت دار ممالک کے تیار کردہ حل بھی شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande