
نئی دہلی، 9 اگست(ہ س)۔ جولائی کے دوران مسلسل خریداری کرنے کے بعد غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) نے اگست کے پہلے ہفتے میں بھی بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایف پی آئی نے اگست کے پہلے ہفتے میں بھارتی شیئر بازار میں تقریباً 12,921 کروڑ روپے کی خالص سرمایہ کاری کی۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں بہتری کے امکانات اور بھارتی اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط پوزیشن کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی بڑا منفی واقعہ پیش نہیں آتا تو اگست میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خریداری جاری رہ سکتی ہے۔
سال 2026 کے بیشتر عرصے میں ایف پی آئی بھارتی بازار میں فروخت کنندگان کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ فروری اور جولائی کو چھوڑ کر سال کے دیگر مہینوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مسلسل حصص فروخت کیے اور بھارتی بازار سے سرمایہ نکالا۔
مارچ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سب سے زیادہ فروخت کی، جب انہوں نے تقریباً 1.17 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ رقم بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے نکالی۔ اس کے بعد اپریل میں 60,847 کروڑ روپے، مئی میں 32,963 کروڑ روپے اور جون میں 49,340 کروڑ روپے کی خالص فروخت کی گئی۔
تاہم جولائی میں صورتحال بدلی اور ایف پی آئی نے فروخت کے مقابلے میں خریداری زیادہ کی۔ اس ماہ انہوں نے 20,199 کروڑ روپے کی خالص سرمایہ کاری کی۔
اس سے قبل فروری 2026 میں بھی ایف پی آئی خریدار رہے تھے اور انہوں نے بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں 22,615 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔
سینٹرل ڈپازٹری سروسز(انڈیا) لمیٹڈ (سی ڈی ایس ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست کے پہلے ہفتے تک غیر ملکی سرمایہ کار مجموعی طور پر تقریباً 2,40,377 کروڑ روپے بھارتی شیئر بازار سے نکال چکے ہیں۔
جنوری میں ایف پی آئی نے 35,962 کروڑ روپے کی فروخت کی تھی، جبکہ فروری میں 22,615 کروڑ روپے کی خریداری کی۔ مارچ میں 1.17 لاکھ کروڑ روپے، اپریل میں 60,847 کروڑ روپے، مئی میں 32,963 کروڑ روپے اور جون میں 49,340 کروڑ روپے کی فروخت ہوئی۔اس کے بعد جولائی میں 20,199 کروڑ روپے اور اگست کے پہلے ہفتے میں 12,921 کروڑ روپے کی خالص خریداری ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافے اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں ایف پی آئی کی واپسی کئی عوامل کا نتیجہ ہے۔ ان میں بھارتی معیشت کے مضبوط بنیادی اشاریے، روپے میں نسبتاً استحکام، خام تیل کی قیمتوں میں نرمی اور عالمی سطح پر بھارتی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد شامل ہیں۔ٹی این وی فنانشل سروسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تارکیشور ناتھ ویشنو کے مطابق بھارت کے بہتر ہوتے معاشی اشاریوں، روپے کے استحکام اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھائی ہے۔ان کے مطابق امریکہ میں شرح سود میں کمی کی توقع اور عالمی میکرو اکنامک صورتحال میں بہتری کے امکانات نے بھی بھارتی بازار کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنایا ہے۔
ماہرین کے مطابق چِپ اور سیمی کنڈکٹر شعبے میں عالمی سطح پر کمزوری کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار جنوبی کوریا جیسے بازاروں میں بڑے پیمانے پر فروخت کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہاں سے نکالا جانے والا سرمایہ بعض دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کا رخ کر رہا ہے، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کوئی بڑا منفی جھٹکا نہیں آتا تو اگست میں بھی بھارتی شیئر بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan