

استنبول، 09 اگست (ہ س)۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے روس-یوکرین جنگ کے حوالے سے سنگین وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ’’تباہی مچانے والی جنگ‘‘ مزید بڑھتی ہے تو روس اپنے پاس موجود ’’آخری راستے‘‘ کو استعمال کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ فیدان نے عالمی برادری سے جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے ’’ایڈیٹر ڈیسک‘‘ پروگرام میں گفتگو کے دوران فیدان سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ کی موجودہ صورتحال روس کو اپنے آخری راستے کا استعمال کرنے کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اگر تنازعہ اسی طرح بڑھتا رہا تو ماسکو کے سامنے اپنے پاس موجود آخری راستہ استعمال کرنے کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
فیدان نے کہا کہ روسی حکام کے ساتھ ان کی بات چیت میں بھی اس ممکنہ خطرے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک بھی اس خطرے سے واقف ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے مغربی ممالک کو اس سلسلے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے حوالے سے جن باتوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ نہیں ہوں گی، اب وہی ہوتی نظر آرہی ہیں۔ تنازعہ نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے بلکہ اپنے مقاصد اور طریقہ کار کے لحاظ سے بھی مسلسل پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا اثر اب عام شہریوں کے علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔
فیدان کے مطابق، ثالث ممالک، بالخصوص امریکہ کا اندازہ ہے کہ جب تک روس اور یوکرین دونوں کے پاس ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لیے فوجی صلاحیت موجود ہے، تب تک دونوں فریق رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریق کسی درمیانی راستے پر پہنچ کر رعایتیں دینے کے لیے تیار ہوجائیں تو ثالثوں کے لیے امن عمل کو آگے بڑھانا آسان ہوگا۔ لیکن جب کوئی فریق رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو تنازع بڑھتے ہوئے تشدد کے ساتھ اس وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک جنگ کے حالات ہی فریقین کو سمجھوتے کی جانب دھکیلنے نہ لگیں۔
فیدان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے کو مکمل طور پر تھکا دینے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر امن قائم کرنے کی ذہنیت اپنا سکتے ہیں۔
انہوں نے جنگ کے ایک طویل مرحلے کو ’’محاذ پر گھسنے والی جنگ‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس دوران محاذ پر فوجی ڈرون اور توپ خانے کے حملوں کا سامنا کر رہے تھے، جبکہ میدان جنگ میں مسلسل رقم اور فوجی بھیجے جارہے تھے۔
فیدان نے کہا کہ جب ترکیہ نے ثالث کے طور پر مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی، تب سمجھوتے کے کچھ امکانات پیدا ہوئے تھے۔ لیکن علاقائی کنٹرول کے حوالے سے اختلافات کے باعث دونوں فریق کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جنگ ایسے مرحلے میں پہنچ گئی ہے، جہاں تباہی اور نقصان محاذ سے نکل کر پچھلے علاقوں تک پہنچ رہا ہے اور عام شہری بھی متاثر ہورہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب جنگ کی تباہی جنگی میدان سے باہر تک پہنچتی ہے تو معاملہ صرف کسی لڑائی کو جیتنے یا ہارنے تک محدود نہیں رہتا۔ ایسی صورتحال میں قوم کے وجود کا سوال کھڑا ہوسکتا ہے اور ملک اپنے پاس موجود ہر آخری راستے کو استعمال کرنے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
فیدان نے کہا کہ روس، یوکرین، امریکہ اور یورپ کی اس جنگ کے حوالے سے الگ الگ سوچ اور تزویراتی اندازے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’جنگ ختم کرنا دیگر تمام مفادات سے بالاتر ہے‘‘ - اس اصول کو ابھی تک تمام فریقوں نے مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض فریقوں کا اندازہ ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ ختم کرنے سے انہیں جنگ جاری رکھنے کے مقابلے میں زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔ یہی سوچ تنازعہ ختم کرنے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک بنی ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن