
اسلام آباد، 10 اگست (ہ س)۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور کے چِڈگی علاقے میں بلوچ باغیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس دوران مختلف مقامات پر مارٹر گولے داغے جانے اور کئی مقامات پر زوردار دھماکوں کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے کے واقعے کے بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چِڈگی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچ باغیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ فوجی آپریشن کے دوران متعدد مقامات پر مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ بتایا گیا ہے کہ فوج اس کارروائی میں ڈرونز کا بھی استعمال کر رہی ہے۔
ایک دوسری رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے مرکزی شہر اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 8 اگست کی رات مسلح افراد نے قمبرانی روڈ پر پولیس کے ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں کو مبینہ طور پر حراست میں لینے کے بعد ان کے سرکاری ہتھیار چھین لیے۔ اس دوران فائرنگ میں ایک پولیس افسر معمولی طور پر زخمی بھی ہوا۔رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کے ہاتھ باندھ دیے اور ان کے سرکاری ہتھیار اپنے ساتھ لے گئے۔
دی بلوچستان پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ کوئٹہ میں سکیورٹی خطرے کے الرٹ کے بعد پورے شہر میں فرنٹیئر کور اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کو بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے) کی جانب سے خطرہ بدستور لاحق ہے۔
پولیس کے مطابق، مجید بریگیڈ کے خودکش بمباروں سمیت بلوچ لبریشن آرمی کے تقریباً 4,000 جنگجو 14 اگست کو کوئٹہ شہر پر قبضے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس دوران سرکاری عمارتوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔تاہم، ان دعوؤں اور سکیورٹی خطرے سے متعلق اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan