
کیف، 9 اگست (ہ س)۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنوبی کوریا سے ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کرنے میں مدد طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس مسلسل میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے یوکرین پر حملے کر رہا ہے، ایسے میں کیف کو فضائی دفاع کے شعبے میں تعاون کی سخت ضرورت ہے۔
جاپان کے انگریزی روزنامہ ’دی جاپان ٹائمز‘ کے مطابق یوکرینی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ جنوبی کوریا کو یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین ایسے شعبے میں سیول کی مدد چاہتا ہے، جہاں اسے سب سے زیادہ کمی محسوس ہو رہی ہے اور وہ شعبہ فضائی دفاع ہے۔
زیلنسکی کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس نے حالیہ مہینوں میں یوکرین پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔ کیف مسلسل اپنے اتحادی ممالک سے امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور دیگر ایئر ڈیفنس آلات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ جنوبی کوریا کے پاس یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی ٹھوس وجہ ہے۔ انہوں نے روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا نے 2024 میں یوکرین کے خلاف روس کی مدد کے لیے تقریباً 14 ہزار سے 15 ہزار فوجی بھیجے تھے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا کی جانب سے یوکرین کو براہ راست ہتھیار فراہم کرنے کے امکانات فی الحال محدود ہیں۔ تاہم دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبوں، تکنیکی تعاون اور ٹیکنالوجی شیئر کرنے کے راستے کھلے رہ سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ