غزہ پر ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اسرائیل نے مسترد کر دیا، نیتن یاہو کا حماس کو غیر مسلح کرنے پر اصرار
مقبوضہ بیت المقدس، 9 اگست(ہ س)۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت غزہ کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی م
غزہ پر ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اسرائیل نے مسترد کر دیا، نیتن یاہو کا حماس کو غیر مسلح کرنے پر اصرار


مقبوضہ بیت المقدس، 9 اگست(ہ س)۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت غزہ کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشنوں سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔

نیتن یاہو کے مطابق امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو منصوبے کا ایک مسودہ بھیجا گیا تھا، لیکن اسرائیل نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی سلامتی سے متعلق شرائط پر قائم ہے اور حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کو کسی بھی معاہدے کے لیے بنیادی شرط سمجھتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے میں پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق حماس نے اپنے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جبکہ منصوبے کا بنیادی مقصد جنگ کے خاتمے کے ساتھ غزہ میں ایک نئے سیاسی اور سکیورٹی نظام کی تشکیل ہے۔تاہم اسرائیل کی جانب سے تازہ انکار نے واشنگٹن کی کوششوں کو ایک نئی مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیے بغیر غزہ سے فوجی انخلا خطے میں دوبارہ سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب حماس نے امریکی حمایت یافتہ منصوبے پر آگے بڑھنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے اور اسرائیل پر بھی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس طرح موجودہ تنازع میں بنیادی اختلاف حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی ترتیب پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل پہلے حماس کو غیر مسلح کرنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینی فریق کے لیے اسرائیلی فوجی موجودگی اور غزہ کے مستقبل کے انتظامات اہم سوالات ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور غزہ میں ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے قیام کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے کوششیں جاری ہیں۔ منصوبے میں حماس کے غیر مسلح ہونے اور غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے جیسے نکات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد اب سب کی نظریں واشنگٹن کے اگلے اقدام اور حماس کے ردعمل پر ہیں۔ تازہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں جنگ کے مستقل خاتمے اور اسرائیلی فوجی انخلا کے لیے فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande