
راج گھاٹ سے مسلم راشٹریہ منچ کا بھائی چارے، مشترکہ ورثے اور قومی یکجہتی کا پیغام
نئی دہلی ، 9 اگست (ہ س)۔
ملک میں بڑھتی ہوئی سماجی دوری، باہمی بداعتمادی اور نفرت کے واقعات کے درمیان مسلم راشٹریہ منچ نے قومی راجدھانی سے ایک بڑی سماجی مہم کا مضبوط پیغام دیا ہے۔ راج گھاٹ میں گاندھی اسمرتی درشن کے مقام پر منعقدہ کانفرنس میں ’آو¿ جڑوں سے جڑیں‘ مہم کو ملک بھر میں آگے لے جانے کا عزم کیا گیا۔
کانفرنس کا مرکزی پیغام واضح تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے عبادت کے طریقے، مذہبی عقائد اور روایات مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن ان کا وطن، قومی شناخت اور مشترکہ ورثہ انہیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ پروگرام میں شریک سماجی، تعلیمی اور مذہبی نمائندوں نے کہا کہ اگر معاشرے کو نفرت اور کشیدگی سے باہر نکالنا ہے تو اس کا حل صرف سیاسی بحث میں نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے لوگوں کے درمیان براہِ راست مکالمہ اور سماجی رشتوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔
کانفرنس میں بڑی تعداد میں شریک افراد نے ہندوستان، ہندوستانی شناخت اور ہندوستانیت کے تصور کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بھائی چارے، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا عزم کیا۔
پروگرام کی صدارت مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما اور آر ایس ایس کے سینئر رہنما اندریش کمار نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ہندوستانی معاشرے کے لیے اپنی جڑوں، تاریخ اور مشترکہ ورثے کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی شخص کا مذہب اس کے عقیدے کا معاملہ ہوسکتا ہے اور اس کا طریقہ عبادت دوسروں سے مختلف ہوسکتا ہے، لیکن اس سے اس کی ہندوستانی شناخت ختم نہیں ہوجاتی۔ ہندوستان کی سرزمین پر رہنے والے لوگوں کے درمیان صدیوں سے مشترکہ رشتے اور طرزِ زندگی موجود رہے ہیں۔ اس لیے معاشرے کو ان چیزوں کو تلاش کرنا چاہیے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں، نہ کہ ان مسائل کو بڑھانا چاہیے جو فاصلے پیدا کرتے ہیں۔
اندریش کمار نے کہا، ”ہم ہندوستانی تھے اور ہم ہندوستانی ہیں۔ اس سفر کا امتحان ہمیں ہر روز، 24 گھنٹے دینا ہے۔“ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستانیت صرف بولنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا اظہار انسان کے کردار، سوچ اور معاشرے کے تئیں اس کی ذمہ داری میں ہونا چاہیے۔
’آو جڑوں سے جڑیں‘ مہم کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے اندریش کمار نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے خاندان، اپنے آباو اجداد اور اپنے شجرہ نسب یعنی شجرہ کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ اس کے آباو اجداد کون تھے، وہ کہاں رہتے تھے اور ان کا سماجی و ثقافتی ورثہ کیا تھا تو اپنی سرزمین اور معاشرے کے ساتھ اس کا رشتہ مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔
اندریش کمار نے مہم کے بارے میں کسی بھی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے کہا کہ ’آو جڑوں سے جڑیں‘ مذہبی تبدیلی کی کوئی مہم نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ہندوستان کے لوگوں کو ان کے مشترکہ ورثے کو سمجھنے، ایک دوسرے کے عقائد اور مذاہب کا احترام کرنے اور ہندوستانی اتحاد کو مضبوط بنانے میں مدد دینا ہے۔
انہوں نے یکم سے 15 اگست تک منائے جانے والے ’ہر گھر ترنگا‘ اور ’گھر گھر ترنگا‘ جیسے پروگراموں میں بھی زیادہ سے زیادہ شرکت کی اپیل کی۔
کانفرنس میں این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر شاہد اختر نے ہندوستانی مسلمانوں کی قومی شناخت اور مشترکہ ورثے پر زور دیا۔انہوں نے کہا، ”ایک قوم، ایک وطن—ہندوستان۔ ہمارے آباو¿ اجداد سب ایک تھے۔ ہم ہندوستانی تھے، ہم ہندوستانی ہیں اور ہم ہندوستانی ہی رہیں گے۔“
انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں پھیلتی نفرت اور بداعتمادی کے درمیان انسانیت، اتحاد اور سالمیت کی آواز کو مضبوط کیا جائے۔
’آو¿ جڑوں سے جڑیں‘ مہم کے قومی کنوینر ڈاکٹر طاہر حسین نے کانفرنس کے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ پہل کسی ایک طبقے یا برادری تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستانی معاشرے سے متعلق ایک مہم ہے۔
مہم کی قومی کنوینر ڈاکٹر شالینی علی نے ’آو¿ جڑوں سے جڑیں‘ کو سماجی مکالمے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کی ایک اہم پہل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع ہے اور اس تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ ملک کی طاقت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اس کے علاو ہ خواجہ غریب نواز یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر مہرخ مرزا نے اپنے خطاب میں انسانیت اور انسانوں کے مشترکہ ورثے پر زور دیا۔
مقررین نے کہا کہ ہندوستان کی طاقت اس حقیقت میں ہے کہ یہاں بے شمار مذاہب، زبانیں، ذاتیں اور روایات ایک ساتھ موجود ہیں۔ اس لیے ’آو¿ جڑوں سے جڑیں‘ کا پیغام دیواریں کھڑی کرنے کا نہیں بلکہ پل بنانے کا پیغام ہونا چاہیے۔
سوامی دِنیشانند مہاراج نے بھی قومی شناخت اور شہریت کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔ منچ کے قومی کنوینر محمد افضل، تشارکانت ہندوستانی، گریش ج±وال، مولانا ج±رالدین، پروفیسر آصف ملک، ایڈووکیٹ غلام صاحب، پروفیسر گیتا سنگھ، میجر جنرل جاوید صاحب، پروفیسر میری اور موسیٰ خان سناتنی مسلم سمیت دیگر مقررین نے بھی مہم کے مقاصد کی حمایت کی اور سماجی اتحاد و باہمی بھائی چارے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais