
جموں، 10 اگست (ہ س)۔
جموں شہرمیں سپراسپیشلٹی اسپتال کے قریب ایک فلائی اوورپراتوارکی شب ترنگا یاترا کے شرکاء کولے جانے والی منی بس الٹنے سے کم از کم 28 نوجوان خواتین زخمی ہو گئیں۔ حکام کے مطابق زخمی خواتین کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان ہیں اوروہ باہو فورٹ سے مبارک منڈی تک منعقدہ ترنگا یاترا میں شرکت کے بعد اپنے گھروں کو واپس جارہی تھیں۔ حادثے کے فوراً بعد تمام زخمیوں کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ زخمی خواتین ’ناری ویرانگنا‘ منصوبے کا حصہ تھیں، جس کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں سماجی خدمات کے لیے حوصلہ افزائی کرنے کے مقصد سے تربیت دی گئی تھی۔ شرکاء نے تقریباً تین ماہ تک تربیت حاصل کی تھی۔ بی جے پی کے سینئررہنما اوررکن اسمبلی یودھویرسیٹھی نے اسپتال میں صحافیوں کو بتایا کہ مبارک منڈی میں پروگرام کے اختتام کے بعد گروپ نے کھانا کھایا اورمختلف مقامات کے لیے روانہ ہوا، اسی دوران منی بس حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی یودھویر سیٹھی سمیت بی جے پی کے دیگر رہنما اسپتال پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ بیشتر زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور امکان ہے کہ انہیں پیر کے روز اسپتال سے چھٹی دے دی جائے گی، تاہم دو خواتین کومزید طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمی خواتین کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیراعلیٰ کے دفترکے مطابق تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے اوران کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کوزخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت اور ضروری مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر