
نئی دہلی ،09اگست (ہ س)
اتوار کومسجد ایک مینارہ، للیتا پارک، لکشمی نگر، نئی دہلی میں جمعیة علماء مشرقی دہلی کی مجلس منتظمہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں جمعیة علماء مشرقی دہلی کے ارکان منتظمہ سمیت جمعیت صوبہ دہلی کے صدر مولانا قاسم نوری قاسمی اور نائبین صدر مولانا خلیل احمد قاسمی ، مولانا قاری عارف قاسمی ، ناظم اعلی مولانا آفتاب عالم صدیقی ، ناظم تنظیم مولانا یوسف الاعظمی، یڈیشنل جنرل سکریٹری مولانا قاری احرار جوہر قاسمی سمیت کئی اہم ذمہ داران شریک ہوئے۔
مجلس کا آغاز قاری محمد کیف نائب امام مسجد ایک مینارہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مفتی کفایت اللہ صاحب ندوی نے نعتِ پاک پیش کی۔
میٹنگ میں سابق جنرل سیکریٹری جمعیة علماء مشرقی دہلی ڈاکٹر مشتاق انصاری مرحوم کے انتقال کے بعد خالی ہونے والے عہد ہ جنرل سکریٹری کے سلسلے میں باہمی مشاورت کی گئی۔ ارکان منتظمہ نے متفقہ طور پر مفتی عبد الواحد قاسمی ، امام مسجد ایک مینارہ کو جمعیة علماء مشرقی دہلی کا جنرل سکریٹری منتخب کیا۔
اسی طرح تنظیمی ضرورت اور وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قاری یاسین کو جمعی? علمائ مشرقی دہلی کا کارگزار صدر اور قاری عبد اللہ صاحب کو خزانچی مقرر کیا گیا۔
اس موقع پر نائب صدر قاری عارف قاسمی نے تنظیمی حالات اور موجودہ تقاضوں کے پیش نظر کارگزار صدر کے تقرر کی تجویز پیش کی، جس پر مجلس کے شرکاء نے اتفاق کیا۔
اس موقع پر جمعیة علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق کی اہمیت پر زور دیا اورجمعیة علماء ہند کے مشن و مقاصد کی تکمیل کے لیے باہمی تعاون، اخلاص اور یکجہتی کے ساتھ سرگرمِ عمل رہنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تنظیمی استحکام اور اجتماعی جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جمعیة علماء صوبہ دہلی کے نائب صدر مفتی خلیل احمد قاسمی نے مفتی عبد الواحد قاسمی کے انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اخلاص و محنت کے ساتھ جمعی? کے کاموں کو آگے بڑھانے میں مو¿ثر کردار ادا کریں گے۔
نو منتخب جنرل سیکریٹری مفتی عبد الواحد قاسمی نے ”مثالی مسجد“ کے عنوان سے نہایت اہم اور جامع گفتگو کی۔ انہوں نے مسجد نبوی کو مسلمانوں کی مساجد کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مساجد کو صرف نماز کی ادائیگی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں دینی تعلیم، اصلاح، دعوت، خدمتِ خلق اور معاشرتی رہنمائی کے مراکز کے طور پر آباد کیا جائے۔
انہوں نے اپنی مسجد کی مختلف دینی و فلاحی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ الحمدللہ ایک مینارہ مسجد میں مدرسہ، مکتب، دارالقضاء، افتاء ، درسِ قرآن اور درسِ حدیث سمیت مختلف شعبے قائم ہیں، جبکہ ضرورت مندوں کی مدد اور خدمتِ خلق کے لیے بیت المال کا شعبہ بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے دیگر مساجد کے ذمہ داران کو بھی مساجد کو ہمہ جہت دینی و سماجی مراکز بنانے کی فکر دلائی۔
میٹنگ میں ڈاکٹر مشتاق صاحب مرحوم کی دینی و تنظیمی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کیا گیا۔ شرکاء نے مرحوم کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت، رحمت اور بلندی? درجات کی دعا کی۔
میٹنگ میں جمعیة علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی، مفتی خلیل احمد قاسمی، قاری عارف، مولانا آفتاب عالم، قاری سلیم، مفتی سلمان ، قاری عبدالسمیع شاہی ، مفتی عبد الواحد صاحب جنرل سیکرٹری جمعیة علماء مشرقی دہلی، مفتی محمد انصار الحق قاسمی ، مفتی کفایت اللہ صوبہ دہلی، قاری محمد انور علی، محمد زید، محمد کیف، محمد علی مظاہری، محمد اکبر علی، محمد عابد حسین، صادق خان، شکیل احمد، عبدالحلیم، محمد سفیان، شکیل احمد المظاہری، محمد نوشاد عالم، محمد شفیق الرحمن، عنایت اللہ مظاہری، عبدالمالک اور مشرقی دہلی کے دیگر متعدد علماءو کارکنان نے شرکت کی۔آخر میں قاری عارف صاحب کی دعا کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais