
حیدرآباد ،09 اگست (ہ س)۔
حیدرآباد کی معروف نلسارلاء یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیمِ اسناد کے حوالے سے تنازعہ پیداہوگیا ہے۔ یونیورسٹی نے تقریب میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس سوریہ کانت کوبطورمہمانِ خصوصی مدعوکیاہے، تاہم یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک بڑے گروپ نے اس دعوت کی مخالفت کرتے ہوئے وائس چانسلرکوخط لکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریب میں 2026 میں قانون کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کواسناد فراہم کی جانی تھیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے چیف جسٹس سوریہ کانت کو گزشتہ ماہ تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، لیکن تقریب میں ان کی شرکت پرطلبہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے طلبہ کی جانب سے دی گئی درخواست پرتقریباً 450 طلبہ نے دستخط کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں طلبہ سے متعلق بعض معاملات میں سپریم کورٹ میں دائرمقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے طرزِعمل پرانہیں شبہات ہیں۔ طلبہ نے خاص طور پر20 جولائی کودہلی میں ہونے والے ایک احتجاج کاحوالہ دیاہے، جس کے دوران متعدد طلبہ کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ان واقعات سے متعلق مقدمات سپریم کورٹ میں بھی زیرِسماعت ہیں۔ طلبہ کا الزام ہے کہ ان معاملات میں ان کے مؤقف کومناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے طلبہ نے مطالبہ کیاہے کہ چیف جسٹس کو جلسۂ تقسیمِ اسناد میں بطورمہمانِ خصوصی مدعوکرنے کے فیصلے پر دوبارہ غورکیاجائے۔ طلبہ نے یہ بھی کہاہے کہ وہ چیف جسٹس کے ہاتھوں اپنی اسناد وصول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔450 طلبہ کے دستخط سے وائس چانسلرکوبھیجے گئے خط میں طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اس معاملے پربراہِ راست بات چیت کرنے کی آمادگی ظاہرکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خیالات یونیورسٹی کے ذمہ داران کے سامنے پیش کرناچاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طلبہ کی مخالفت کے بعدجلسۂ تقسیمِ اسنادکوملتوی کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ خدشہ ظاہرکیاجارہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگرچیف جسٹس تقریب میں شرکت کرتے ہیں تواحتجاج یا کسی ناخوشگوار صورتحال کاامکان پیداہوسکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب یہ بھی کہا جارہاہے کہ جلسۂ تقسیمِ اسناد کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ اس پورے معاملے پر نلسارلاء یونیورسٹی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یوں چیف جسٹس کو جلسۂ تقسیمِ اسناد میں مدعوکرنے کا معاملہ اب طلبہ اوریونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان ایک اہم تنازعہ بن گیا ہے،جبکہ سب کی نظریں یونیورسٹی کے آئندہ فیصلے پرموقوف ہیں۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق