
پینٹکٹن/وینکوور، 9 اگست(ہ س)۔ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں تیزی سے پھیلتی جنگلات کی آگ کے باعث ہفتے کے روز پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ آگ سے صوبے کے 100 سے زائد علاقے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 21 ہزار سے زیادہ افراد کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ مزید تقریباً 9,700 افراد کو ممکنہ انخلا کے لیے الرٹ پر رکھا گیا ہے۔سب سے سنگین صورتحال بالڈ رینج جنگلات کی آگ کے باعث پیدا ہوئی ہے، جو تیزی سے پھیلتے ہوئے تقریباً 9,500 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ آگ کے خطرے کے پیش نظر اوکاناگن جھیل کے مغرب میں واقع سمرلینڈ، پیچ لینڈ اور اطراف کے علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔صرف سمرلینڈ میں جمعہ کی دیر رات تقریباً 12 ہزار شہریوں کو گھر خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔
کینیڈا کے سرکاری نشریاتی ادارے سی بی سی اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے کہا کہ جنگلات کی آگ سے گھروں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آگ کی سمت اور حالات تیزی سے تبدیل ہونے کے باعث بعض افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے تھے، جنہیں محفوظ نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کرنا پڑا۔ڈیوڈ ایبی کے مطابق آگ اتنی شدید ہے کہ اس نے اپنا موسمی نظام تشکیل دینا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی گرنے جیسے واقعات بھی ہو رہے ہیں اور آگ مزید بھڑکنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے فوری طور پر انخلا کے احکامات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کے حکام نے بالڈ رینج کی آتشزدگی کو انتہائی چیلنجنگ قرار دیا ہے۔ تقریباً 1,500 فائر فائٹرز 100 سے زائد مقامات پر آگ پر قابو پانے کے لیے دن رات کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد صوبائی حکومت کو اضافی اختیارات بھی حاصل ہو گئے ہیں۔ ان میں ضرورت پڑنے پر مقامی سفر پر پابندی عائد کرنا، متاثرین کے لیے عارضی رہائش کا انتظام کرنا اور امدادی و ریسکیو کارروائیوں کے لیے وسائل کو تیزی سے استعمال کرنا شامل ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan