جمہوریت میں احتجاج کا مقصد اتفاقِ رائے ہونا چاہیے،نہ کہ تقسیم پیدا کرنا : موہن بھاگوت
نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے جمعرات کو جمہوریت میں مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج بھی اسی عمل کا ایک حصہ ہے۔ تاہم اگر اختلافِ رائے ہو تو سب سے پہلے بات چیت کی کوشش کی ج
جمہوریت میں احتجاج کا مقصد اتفاقِ رائے ہونا چاہیے،نہ کہ تقسیم پیدا کرنا : موہن بھاگوت


نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے جمعرات کو جمہوریت میں مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج بھی اسی عمل کا ایک حصہ ہے۔ تاہم اگر اختلافِ رائے ہو تو سب سے پہلے بات چیت کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کی ضرورت پیش آئے تو اس کا مقصد اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا۔

سنگھ سربراہ نے آج ممبئی میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ملک بھر سے آئے جین زی اور جین الفا یعنی 15 سے 27 سال کے نوجوانوں اور طلباءکے سوالات کے جواب دیے۔ انہوں نے حالیہ سی جے پی تحریک کے بعد نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات پر اظہارِ خیال کیا۔ موہن بھاگوت نے تعلیم میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے مرکزی بجٹ کا 6 فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کیے جانے کی حمایت کی اور کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ تعلیم کے ذریعے آئندہ نسل کی بہتر تعمیر ہو۔

انہوں نے ہندوستانی روایت میں مکالمے اور علمی ثقافت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج بھی مکالمے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب عوام کی آواز نہ سنی جائے تو احتجاج اتفاقِ رائے قائم کرنے کا ایک طریقہ بن جاتا ہے، لیکن اس کا مقصد معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ اختلاف اور تقسیم کو فروغ دینا۔

سوال و جواب کے اس سیشن میں موہن بھاگوت نے احتجاج، سوشل میڈیا اور تعلیم سمیت مختلف موضوعات پر نوجوانوں کے سوالات کے جواب دیے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آر ایس ایس کا ایل جی بی ٹی کیو برادری، ہم جنس پرست افراد اور خواتین کی قیادت کے بارے میں کیا نقط نظر ہے۔ انہوں نے ہم جنس پرست افراد کو معاشرے میں قبول کرنے اور انہیں سماجی دھارے میں شامل کرنے کی حمایت کی اور بتایا کہ سنگھ کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز مجلس پرتنیدھی سبھا میں خواتین کو بھی فیصلوں میں شرکت کا حق حاصل ہے۔

ممبئی کے نیتا مکیش امبانی کلچرل سینٹر میں آج انڈیاز انٹرنیشنل موومنٹ ٹو یونائیٹ نیشنز (آئی آئی ایم یو این) کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں دو ہزار سے زائد جین زی اور جین الفا سے تعلق رکھنے والے طلباءنے شرکت کی۔ موہن بھاگوت نے نوجوان نسل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نسل محض احکامات پر عمل نہیں کرتی بلکہ ہر بات کے پیچھے موجود دلیل اور منطق جاننا چاہتی ہے۔

احتجاج کے دوران لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے کی مکمل معلومات نہیں ہیں، لیکن اگر کسی پر اعتماد کرنا ہو تو وہ سب سے پہلے ملک کے نوجوانوں پر اعتماد کریں گے۔

تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کو بہتر تعلیمی نظام کے لیے سماج کا تعاون حاصل ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اساتذہ کی معیاری تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم کے لیے بجٹ کا 6 فیصد مختص کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ حکومت اس پر مو¿ثر طریقے سے عمل درآمد کرے۔ ان کے مطابق یہ کام احتجاج کے بغیر بھی ممکن ہے۔

ریزرویشن (تحفظات) کے مسئلے پر موہن بھاگوت نے کہا کہ سماجی ناانصافیوں کی وجہ سے اس کی ضرورت پیش آئی ہے۔ جب تک سماجی امتیاز موجود رہے گا، ریزرویشن کی ضرورت بھی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر نے بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا، اس لیے ریزرویشن کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ معلومات ذمہ داری کے ساتھ شیئر کی جانی چاہئیں اور صرف مستند ذرائع پر اعتماد کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کو مثبت، مفید اور سماج کے فائدے کی معلومات ہی آگے بڑھانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جین زی میں یہ شعور پیدا ہونا چاہیے کہ صحیح اور غلط میں فرق کیسے کیا جائے۔ بزرگ نسل کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کرے اور انہیں درست اور غلط کے درمیان امتیاز سکھائے۔ بچوں کو بھی اپنے لیے صحیح رول ماڈل منتخب کرنے چاہئیں۔

چین اور پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ عوامی تعلقات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ایسے تعلقات پر پابندی لگانا پڑتی ہے، لیکن بعد میں دوبارہ مکالمے کا راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پوری انسانیت کے ایک ہونے کا پیغام دیا اور واضح کیا کہ دہشت گردی بھی جنگ ہی کی ایک شکل ہے۔

ایل جی بی ٹی کیو برادری اور ہم جنس شادی کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت رہی ہے اور یہ برادری بھی معاشرے کا حصہ ہے۔ تاہم ہم جنس شادی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شادی ایک سماجی ادارہ اور روایتی نظام ہے، البتہ ہم جنس افراد کے باہمی ساتھ رہنے کے لیے ایسی قانونی صورت اختیار کی جا سکتی ہے جسے معاشرہ قبول کرے۔

معاشرے میں خواتین کے کردار پر موہن بھاگوت نے کہا کہ عورت اور مرد برابر اور ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ خواتین ہر شعبے میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس لیے انہیں تمام ذمہ داریوں کے لیے تربیت دی جانی چاہیے۔ آر ایس ایس میں خواتین کے کردار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جب سنگھ کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت کے حالات کے مطابق خواتین کے لیے الگ خودمختار تنظیم راشٹر سیویکا سمیتی بنائی گئی۔ تاہم سنگھ سے وابستہ دیگر تمام تنظیموں میں خواتین کی شرکت موجود ہے اور سنگھ کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز مجلس اکھل بھارتیہ پرتنیدھی سبھا کے اجلاسوں میں خواتین نمائندے بھی شریک ہوتی ہیں اور فیصلوں میں ان کی مو¿ثر شمولیت ہوتی ہے۔

روزگار کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ روزگار کا مطلب صرف ملازمت نہیں بلکہ ہنر، خود روزگاری اور کاروبار بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے محنت کے احترام اور ہر قسم کے کام کو یکساں احترام دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

قیادت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک اچھا رہنما پہلے خود اپنی قیادت کرنا سیکھتا ہے۔ حقیقی قیادت کا مقصد صرف پیروکار بنانا نہیں بلکہ نئے رہنما تیار کرنا ہونا چاہیے۔

آخر میں موہن بھاگوت نے پائیدار ترقی اور ماحولیات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی اور ماحولیات کا تحفظ ایک ساتھ ممکن ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول کے تئیں حساس اور ذمہ دار رویہ اختیار کریں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande